سیدنا علی رضی اللہ عنہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدینہ سے روانگی
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اہل مکہ مخالفت پر آمادہ ہیں تو آپ نے ملک شام کی طرف روانگی کا قصد ملتوی فرمایا اس کے بعد ہی خبر پہنچی‘ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ مع لشکر مکہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے‘ تو آپ کو بہت صدمہ ہوا‘ آپ نے تمام اہل مدینہ سے مدد طلب کی‘ خطبہ پڑھا اور لوگوں کو لڑائی کے لیے آمادہ کیا۔
اہل مدینہ کو یہ بہت ہی شاق گذرتا تھا‘ کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ ‘ طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں لڑنے کو نکلیں لیکن جب سیدنا ابوالہیثم بدری رضی اللہ عنہ ‘ زیاد بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ‘ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ‘ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آمادگی ظاہر کی تو اور لوگ بھی آمادہ ہو گئے‘ آخر ماہ ربیع الثانی ۳۶ ھ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر بصرہ کی طرف روانہ ہوئے ‘ کوفیوں اور مصریوں کے گروہوں نے بھی آپ کی معیت اختیار کی۔