سیدنا علی رضی اللہ عنہ
عبداللہ بن سباء یہودی منافق‘ لشکر علی میں
اسی لشکر میں عبداللہ بن سبا بھی معہ اپنے ساتھیوں اور راز داروں کے موجود تھا‘ جب آپ مدینہ سے روانہ ہوئے‘ تو راستہ میں سیدنا عبداللہ بن سلام مل گئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر کھڑے ہو گئے‘ اور کہا کہ اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ آپ مدینہ سے تشریف نہ لے جائیں‘ واللہ اگر آپ یہاں سے نکل جائیں گے تو مسلمانوں کا امیر یہاں پھر لوٹ کر نہ آئے گا‘ وہ لوگ گالیاں دیتے ہوئے عبداللہ بن سلام کی طرف دوڑے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنھم میں یہ اچھا آدمی ہے‘ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور مقام ربذہ میں پہنچے‘ تو خبر سنی کہ طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بصرہ میں داخل ہو گئے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں قیام کر دیا‘ اور یہیں سے ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں کے نام احکام جاری کر دئیے‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی جانب روانہ کیا کہ وہاں سے لوگوں کو جمع کر کے لائو‘ خود ربذہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں کو جنگ کی ترغیب دیتے رہے‘ چند روز کے بعد مدینہ منورہ سے اپنا اسباب اور سواری وغیرہ منگا کر روانگی کا عزم فرمایا۔
لوگوں کو چونکہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنا پسند نہ تھا اس لیے آپ نے فرمایا کہ میں ان لوگوں پر حملہ نہ کروں گا‘ اور جب تک وہ خود حملہ کر کے مجھ کو مجبور نہ کر دیں گے ان سے نہ لڑوں گا اور جہاں تک ممکن ہو گا ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔
ابھی ربذہ سے روانہ ہوئے تھے کہ قبیلہ طے کی ایک جماعت آ کر شریک لشکر ہوئی‘ آپ نے ان کی تعریف کی‘ ربذہ سے روانگی کے وقت آپ نے عمروبن الجراح کو مقدمۃ الجیش کا افسر مقرر فرمایا‘ مقام فید میں پہنچے تو قبیلہ طے اور قبیلہ اسد کے کچھ لوگوں نے حاضر ہو کر ہم رکاب چلنے کی اجازت طلب کی‘ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے اقرار پر ثابت قدم رہو‘ یہی بہت ہے اور لڑنے کے لیے مہاجرین کافی ہیں‘ اسی مقام پر آپ کو کوفہ سے آتا ہوا ایک شخص ملا اس سے آپ نے دریافت کیا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت تمہارا کیا خیال ہے؟
اس نے کہا اگر تم صلح و صفائی کے ارادے سے نکلے ہو‘ یعنی طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ سے صلح کرنا چاہتے ہو‘ تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تمہارا شریک ہے‘ آپ نے فرمایا کہ جب تک ہم پر کوئی حملہ آور نہ ہو‘ ہمارا ارادہ لڑائی کا نہیں ہے۔
فید سے روانہ ہو کر مقام ثعلبیہ پر قیام ہوا‘ تو وہاں خبر پہنچی‘ کہ حکیم بن جبلہ مارا گیا‘ اور عثمان بن حنیف خود آ کر حاضر خدمت ہوئے‘ ان کو دیکھ کر آپ نے فرمایا‘ کہ تم کو تمہاری مصیبتوں پر اجر ملے گا۔ پھر آپ نے فرمایا‘ کہ طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ نے اول میرے ہاتھ پر بیعت کی‘ پھر انہوں نے بد عہدی کر کے مجھ پر خروج کیا‘ ان لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ و عثمان رضی اللہ عنہ کی اطاعت کی اور میری مخالفت کرتے ہیں‘ کاش یہ لوگ جانتے‘ کہ میں ان سے جدا نہیں ہوں‘ یہ کہہ کر آپ طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بد دعا کرنے لگے۔