سیدنا علی رضی اللہ عنہ

صف آرائی

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اپنے لشکر کو لیے ہوئے مقام مربد تک آ پہنچیں‘ تو عثمان بن حنیف اپنا لشکر لیے ہوئے بصرہ سے نکلا اور صف آراء ہوا‘ ام المومنین رضی اللہ عنہ کے لشکر کا میمنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا اور میسرہ کے سردار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے‘ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ایک دوسرے کے قریب آ گئے‘ تو اول میمنہ کی جانب صف لشکر سے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے حمدو صلوۃ کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلتیں بیان کیں اور ان کے خون کا بدلہ لینے کی لوگوں کو ترغیب دی‘ اس کے بعد میسرہ کی جانب سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے اور انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی تقریر کی تصدیق کی‘ پھر اس کے بعد سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ نے نصائح فرمائے۔ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر عثمان بن حنیف کے لشکریوں کے اسی وقت دو گروہ ہوں گئے‘ ایک تو عثمان بن حنیف کے ساتھ مقاومت اور مقابلہ پر آمادہ تھا اور دوسرے وہ جو طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کو اچھا نہیں جانتے تھے‘ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کو اچھا نہیں جانتے تھے‘ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے لشکریوں میں خود ہی پھوٹ پڑ گئی ہے‘ تو میدان سے واپس چلے آئے اور پیچھے ہٹ کر اپنے خیموں میں مقیم ہو گئے‘ لیکن عثمان بن حنیف اپنے ساتھیوں کو لیے ہوئے برابر مقابلہ پر کھڑا رہا اور اس نے جاریہ بن قدامہ کو سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا‘ جس نے آ کر عرض کیا کہ اے ام المومنین رضی اللہ عنہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قتل ہونا زیادہ پسندیدہ تھا بمقابلہ اس کے کہ تم اس ملعون اونٹ پر سوار ہو کر نکلیں‘ تمہارے لیے اللہ تعالی نے پردہ مقرر کیا تھا تم نے پردہ کی ہتک کی‘ اگر تم اپنے ارادے سے آئی ہو تو مدینہ منورہ کی طرف واپس چلی جائو‘ اور اگر بجبر و اکراہ آئی ہو‘ تو خدائے تعالی سے مدد چاہو اور لوگوں سے واپس چلنے کو کہو۔ یہ تقریر ابھی ختم نہ ہونے پائی تھی‘ کہ حکیم بن جبلہ نے ام المومنین کے لشکر پر حملہ کر دیا‘ ادہر سے بھی مدافعت کی گئی‘ مگر شام ہونے کے سبب لڑائی ختم ہو گئی‘ اگلے دن علی الصبح حکیم بن جبلہ نے صف آرائی کی اور طرفین سے لڑائی شروع ہوئی‘ حکیم بن جبلہ مارا گیا اور خلاصہ یہ کہ عثمان بن حنیف کو انجام کار شکست ہوئی‘ بصرہ پر طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کا قبضہ ہو گیا‘ عثمان بن حنیف گرفتار ہو کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے سامنے آئے تو سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی گئی‘ انہوں نے چھوڑ دینے کا حکم دیا وہ وہاں سے چھوٹ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوئے‘ اب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کا بصرہ پر قبضہ ہو گیا‘ لیکن یہ قبضہ بھی ویسا ہی تھا جیسا کہ عثمان بن حنیف کا قبضہ تھا‘ یعنی موافق و مخالف دونوں قسم کے لوگ بصرہ میں موجود تھے۔۱؎