سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
فضائل
آپ خلق حیا میں خاص طور پر ممتاز تھے‘ سیدنا زید بن ثابت کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ عثمان میرے پاس سے گذرے تو مجھ سے ایک فرشتے نے کہا کہ مجھے ان سے شرم آتی ہے‘ کیوں کہ قوم ان کو قتل کر دے گی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح عثمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے حیا کرتے ہیں فرشتے ان سے حیا کرتے ہیں۔۱؎ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا کا ذکر آیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کبھی سیدنا عثمان نہانا چاہتے تو دروازہ کو بند کر کے کپڑے اتارنے میں اس قدر شرماتے کہ پشت سیدھی نہ کر سکتے تھے۔
آپ ذوہجر تین تھے یعنی آپ نے حبش کی ہجرت بھی کی اور مدینہ کی بھی‘ آپ شکل و شمائل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت مشابہ تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبل از ہجرت اپنی بیٹی رقیہ کی شادی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دی تھی‘ جب جنگ بدر کے روز وہ فوت ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی دوسری بیٹی سیدنا ام کلثوم کی شادی آپ سے کر دی‘ اسی لیے آپ ذی النورین کے خطاب سے مشہور ہیں ام کلثوم بھی ۹ ھ میں فوت ہو گئیں‘ سوائے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اور کوئی شخص دنیا میں ایسا نہیں گذرا جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں رہی ہوں۔
مناسک حج سب سے بہتر سیدنا عثمان جانتے تھے‘ آپ کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ چوتھے مسلمان تھے‘ یعنی آپ سے پیشتر صرف تین شخص ایمان لا چکے تھے۔ آپ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی تحریک سے مسلمان ہوئے تھے۔
آپ صحابہ کرام میں بہت مال دار تھے اور اسی طرح سب سے زیادہ سخی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے تھے۔
آپ سیدنا رقیہ رضی اللہ عنہ کی سخت علالت کے سبب جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اجازت و حکم کے موافق مدینہ منورہ میں رہے تھے‘ لیکن جنگ بدر کے مال غنیمت میں سے آپ کو حصہ اسی قدر ملا جس قدر شرکاء جنگ کو ملا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو اصحاب بدر میں شامل سمجھنا چاہیے۔۱؎ چنانچہ اصحاب بدر میں آپ کا شمار کیا جاتا ہے۔
آپ صحابہ کرام میں کثرت عبادت کے لیے خصوصی شہرت رکھتے تھے‘ رات بھر کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے اور برسوں روزے رکھا کرتے تھے‘ مسجد نبوی کی بغل میں ازواج مطہرات کے لیے کچھ زمین آپ نے اپنے خرچ سے خریدی تھی۔
ایک سال مدینہ میں قحط پڑا تو آپ نے تمام محتاجوں کو غلہ دیا‘ مسلمان جب مدینہ میں آئے تو پانی کی وہاں سخت تکلیف تھی‘ ایک یہودی کا کنواں تھا‘ وہ پانی نہایت ہی گراں فروخت کرتا تھا‘ آپ نے وہ کنواں اس یہودی سے ۳۵ ہزار درہم کو خرید کر وقف کر دیا‘ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘ مسلمان ہونے کے بعد ہر ہفتے ایک غلام خرید کر آزاد کیا کرتے تھے‘ آپ نے کبھی اپنے مال دار ہونے پر فخر نہیں کیا اور زمانہ جاہلیت میں بھی آپ نے کبھی شراب نہیں پی‘ آپ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کو نہایت عمدگی اور احتیاط کے ساتھ روایت کیا کرتے تھے‘ آپ نے جنگ تبوک کے واسطے ساڑھے چھ سو اونٹ اور پچاس گھوڑے راہ اللہ تعالیٰ میں پیش کئے‘ عہد جاہلیت میں آپ امرائے مکہ میں شمار ہوتے تھے۔