سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
خلافت فاروقی رضی اللہ عنہ کے اہم واقعات
۲۳ جمادی الثانی ۱۳ ھ بروز سہ شنبہ مدینہ منورہ میں تمام مسلمانوں نے بلا اختلاف سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی‘ ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ ھ بروز دو شنبہ مثنیٰ بن رضی اللہ عنہ حارثہ کے آنے اور حالات سنانے کے بعد سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلا کر جو حکم دیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے۔:
مجھے قوی امید ہے کہ میں آج ہی مر جائوں گا‘ پس میرے مرنے کے بعد تم کل کا دن ختم کرنے سے پہلے پہلے مثنیٰ کے ساتھ لوگوں کو لڑائی پر روانہ کر دینا‘ تم کو کوئی مصیبت تمہارے دینی کام اور حکم الٰہی سے غافل نہ کرنے پائے‘ تم نے دیکھا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد کیا کیا تھا حالانکہ وہ سب سے بڑی مصیبت تھی‘ جب اہل شام پر فتح حاصل ہو جائے تو اہل عراق کو عراق کی طرف واپس بھیج دینا‘ کیونکہ اہل عراق‘ عراق ہی کے کاموں کو خوب سرانجام دے سکتے ہیں اور عراق ہی میں ان کا دل خوب کھلا ہوا ہے۔
ان الفاظ سے ایک یہ حقیقت بھی خوب سمجھ میں آ جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جو کچھ کیا دینی کام اور دینی مقصد کو مقدم سمجھ کر کیا‘ مرتے وقت بھی ان کو دینی کاموں ہی کی فکر تھی‘ اپنی اولاد و ازواج کے حق میں کوئی وصیت نہیں فرمائی‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بیعت خلافت لینے کے بعد لوگوں کوجہاد کی ترغیب دی‘ مہاجرین و انصار کو خاص طور پر مخاطب کر کے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پکارا‘ مگر مجمع نے آمادگی اور جوش کا اظہار نہ کیا‘ تین دن تک سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کر کے جہاد کا وعظ سنایا مگر لوگوں کی طرف سے خاموشی رہی‘ چوتھے روز ابوعبیدہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ نے جہاد عراق کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی‘ ان کے بعد سعد بن عبید رضی اللہ عنہ انصاری کھڑے ہوئے‘ پھر سیدنا سلیط بن قیس رضی اللہ عنہ اور اسی طرح بہت سے لوگ یکے بعد دیگرے آمادہ ہو گئے‘ اورایک لشکر عراق کے لیے تیار ہو گیا‘ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی کو جو سب سے پہلے آمادہ ہوئے تھے اس لشکر کا سردار بنا کر مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عراق کی جانب روانہ کیا۔
تین دن تک لوگوں کا خاموش رہنا مؤرخین کو خاص طور پر محسوس ہوا ہے اور انہوں نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی دن چونکہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کا فرمان لکھ کر شام کے ملک کی طرف بھیجا تھا‘ لہذا لوگ ان سے ناخوش ہو گئے تھے اور اسی لیے ان کے آمادہ کرنے سے آمادہ نہیں ہوئے تھے‘ مگر یہ خیال سراسر غلط اور نا درست ہے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے فرمان کی کسی نے بھی مدینہ میں ایسی مخالفت نہیں کی‘ کہ اس کا حال عام لوگوں کو معلوم ہوا ہو‘ اگر واقعی سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے لوگ مدینہ میں پہلے ہی دن ناخوش ہو گئے تھے تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا‘ اس کا ذکر خاص الخاص طور پر مؤرخین کو لکھنا پڑتا اور اس ناراضی کے دور ہونے کے اسباب بھی بیان کرنے ضروری تھے‘ یہ ایک ایسا غلط خیال ہے کہ اصحاب نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں بہت بڑی گستاخی لازم آتی ہے‘ وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ کسی اختلاف رائے کی بنا پر ترغیب جہاد کی تحقیر کرتے‘ بات صرف یہ تھی کہ جہاد کے لیے سب تیار تھے‘ مگر ذمہ داری لینے یا بیڑا اٹھانے میں متامل اور ایک دوسرے کے منتظر تھے‘ ان میں ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ مجھ سے زیادہ بزرگ اور مجھ سے زیادہ قابل عزت لوگ موجود ہیں وہ جواب دیں گے‘ اسی طرح ہر ایک شخص دوسرے کا منتظر تھا‘ بعض اوقات اس قسم کی گرہ بڑے بڑے مجمعوں میں لگ جایا کرتی ہے اور ہم اپنے زمانہ میں بھی اس قسم کی مثالیں دیکھتے رہتے ہیں‘ یہ انسانی فطرت کا خاصہ معلوم ہوتا ہے‘ اسی لیے اعمال نیک اور خیرات و صدقات کے متعلق ایک طرف سے بچنے کے لیے چھپانے کی ترغیب ہے‘ تو دوسری طرف علانیہ بھی ان نیک کاموں کے کرنے کا حکم ہے‘ تاکہ دوسروں کو تحریص و جرات ہو‘ اور خاموشی و رکاوٹ کی کوئی گرہ نہ لگنے پائے۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اگر اپنی خلافت کے پہلے ہی دن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کا حکم لکھا تھا تو جہاد کی ترغیب تو انہوں نے بیعت خلافت لینے کے بعد ہی پہلی تقریر اور پہلی ہی مجلس میں دی تھی‘ اس تقریر اور اس ترغیب کے بعد ہی انہوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی کا فرمان لکھوایا ہو گا‘ پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پہلی ترغیب کا جواب مجمع کی طرف سے کیوں نہ ملا؟ بات یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی استاد اپنے شاگردوں کو مدرسہ کے کمرہ میں حکم دیتا ہے کہ تختہ سیاہ کو کپڑے سے صاف کر دو یا نقشے کو لپیٹ دو‘ مگر اس کے حکم کی کوئی طالب علم تعمیل نہیں کرتا‘ اس کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ اس استاد کی تعمیل کو شاگرد ضروری نہیں سمجھتے بلکہ تعمیل نہ ہونے کا سبب یہ ہوتا ہے کہ استاد نے سارے کے سارے شاگردوں کو مخاطب کر کے حکم دیا تھا‘ جب وہی استاد کسی ایک یا دو شاگردوں کا نام لے کر یہی حکم دیتا ہے تو فوراً اس کے حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے۔
بہرحال لوگوں کے مجمع کا تین دن تک خاموش رہنا خواہ کسی سبب سے ہو مگر یہ سبب تو ہرگز نہ تھا کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کے حکم سے ناراض تھے کیونکہ خود مدینہ منورہ میں انصار رضی اللہ عنہ کی ایک بڑی جماعت ایسی موجود تھی جو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مالک بن نویرہ کے معاملہ میں قابل مواخذہ یقین کرتی تھی‘ اگر اور لوگ ناراض تھے تو وہ جماعت تو ضرور سیدنا فاروق اعظم سے خوش ہو گی‘ ان لوگوں کو کس چیز نے خاموش رکھا؟