سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو افواج شام کا سپہ سالار اعظم بنا کر بھیجا تھا‘ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک زبردست جنگ جو اور بے نظیر بہادر سپہ سالار تھے‘ عراق میں بھی اب تک خالد بن رضی اللہ عنہ ولید ہی سپہ سالار اعظم تھے‘ اور ان کی حیرت انگیز بہادری اور جنگی قابلیت نے دربار ایران اور ساسانی شہنشاہی کو حیران و ششدر اور مرعوب بنا دیا تھا‘ رومی سلطنت کو بھی ابتداء میں اسی طرح مرعوب بنانے اور ایک زبردست ٹکر لگانے کی ضرورت تھی‘ لہذا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیف اللہ رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف سپہ سالار اعظم بنا کر بھیج دیا اور ان کا اندازہ نہایت صحیح ثابت ہوا‘ کیونکہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے شام میں پہنچ کر یرموک کے میدان میں ایسی زبردست ٹکر لگائی کہ رومی شہنشاہی کی کمر ٹوٹ گئی‘ اور قیصر کے رعب و سطوت میں زلزلہ برپا ہو گیا‘ ان ابتدائی لڑائیوں کے بعد لشکر اسلام کے قبضہ میں ایران و روم کے آباد و سرسبز صوبے آنے والے تھے اور دونوں شہنشاہیوں کی باقاعدہ افواج سے معرکہ آرائی و میدان داری شروع ہونے والی تھی‘ لہذا اب ضرورت تھی کہ اسلامی افواج نہ صرف ایک فتحمند و ملک گیر سپہ سالار کے زیر حکم کام کریں بلکہ ایک مدبر اور ملک دار افسر کی ماتحتی میں مصروف کار ہوں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی قابلیت کے منکر نہ تھے بلکہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کسی قدر غیر محتاط اور مشہور شخص سمجھتے تھے‘ ان کو شروع ہی سے یہ اندیشہ تھا کہ خالد رضی اللہ عنہ بن ولید رضی اللہ عنہ کی بے احتیاطی کہیں مسلمانوں کی کسی جمعیت کو ہلاکت میں نہ ڈال دے‘ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی اس احساس میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مخالف نہ تھے‘ لیکن وہ عراق و شام کے ابتدائی معرکوں میں خالد رضی اللہ عنہ بن ولید رضی اللہ عنہ ہی کو سب سے زیادہ موزوں اور مناسب سمجھتے تھے‘ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرداری کے نقائص کو خوبیوں کے مقابلے میں کمتر پاتے تھے اور اسی لیے انہوں نے دنیا کی دونوں سب سے بڑی طاقتوں (روم و ایران) کو سیدنا سیف اللہ رضی اللہ عنہ کی برش و تابانی دکھانی ضروری سمجھی‘ یہ مدعا چونکہ حاصل ہو چکا تھا‘ لہذا اب ضرورت نہ تھی کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہی سپہ سالار اعظم رہیں‘ اس موقع پر ان الفاظ کو پھر ایک مرتبہ پڑھو‘ جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو اپنے آخری وقت میں لشکر عراق کی نسبت فرمائے تھے اور جو اوپر درج ہو چکے ہیں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ: خدائے تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے کہ انہوں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت کی پردہ پوشی کر دی‘ کیونکہ انہوں نے مجھ کو خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہیوں کی نسبت اپنے آخری وقت میں حکم دیا کہ عراق کی جانب واپس بھیج دینا لیکن خالد رضی اللہ عنہ کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی معزولی کا حکم دیا وہ منشائے صدیقی کے خلاف نہ تھا اور یہ بھی کیسے ہو سکتا تھا کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوتے ہی سب سے پہلا کام وہ کرتے جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے منشاء اور خواہش کے بالکل خلاف ہوتا‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت کا حال شروع کرتے ہوئے عام طور پر مؤرخین اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ سے صرف اس لیے جدا کر کے اپنے پاس رکھا تھا کہ امور خلافت میں ان کے مشورے سے امداد حاصل کریں اور خلافت صدیقی کے پورے زمانہ میں آخر وقت تک فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وزیر و مشیر رہے‘ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا کوئی کام ایسا نہ تھا جس میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے امتزاج و استصواب نہ کر لیا گیا ہو‘دنیا میں بہت سے لوگ ظاہر بیں ہوا کرتے ہیں اور وہ اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے بڑے بڑے آدمیوں سے ایسی ایسی باتوں کو منسوب کر دیتے ہیں جن کا ان بڑے آدمیوں سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا‘ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بعض بے احتیاطیوں پر ضرور اظہار ناراضگی کیا لیکن یہ اظہار ناراضگی بس وہیں تک تھا جہاں تک شریعت اور ان کی تحقیق و اجتہاد کا تعلق تھا‘ اس اظہار ناراضگی کو عداوت و عناد کا درجہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا تھا‘ نہ ہوا‘ وہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جو اسیران بدر کی نسبت یہ آزادانہ حکم دے کہ جو جس کا عزیز رشتہ دار ہے‘ وہ اسی کے ہاتھ سے قتل کیا جائے‘ اس کی نسبت یہ رائے قائم کرنی کہ ان کو خالد رضی اللہ عنہ سے کوئی کدیا ذاتی عداوت تھی سراسر ظلم اور نہایت ہی رکیک و بیہودہ خیال ہے۔۱؎ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خالد بن رضی اللہ عنہ ولید کو معزول کر کے درحقیقت امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم پر بڑا احسان کیا‘ اور ایک ایسی نظیر پیدا کر دی کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے اور خدمت دینی کے مقابلہ میں اپنی ہستی کو ہیچ سمجھنے کی مثالوں میں سب سے پہلے ہم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہی کا نام لیتے ہیں‘ خالد رضی اللہ عنہ بن ولید اگر مرتے دم تک افواج اسلام کے سپہ سالار اعظم رہتے تب بھی ان کی بہادری اور جنگی قابلیت کے متعلق اس سے زیادہ کوئی شہرت نہ ہوتی جو آج موجود ہے‘ لیکن اس معزولی کے واقعہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عزت و عظمت میں ایک ایسے عظیم الشان مرتبہ کا اضافہ کر دیا ہے جس کے آگے ان کی سپہ گری و بہادری کے مرتبہ کی کوئی حقیقت نہیں‘ ہم ایک طرف سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے جنگی کارناموں پر فخر کرتے ہیں تو دوسری طرف ان کی للہیت اور اطاعت اولی الامر کو فخریہ پیش کرتے ہیں۔ بعض مؤرخین نے اپنی ایک یہ لطیف رائے بھی بیان کی ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو چونکہ ہر ایک معرکہ میں فتح و فیروزی حاصل ہوتی رہی تھی لہذا لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ تمام فتوحات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری کے سبب مسلمانوں کو حاصل ہوئیں‘ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید کو معزول کر کے ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کی کامیابیاں اور فتح مندیاں کسی شخص سے وابستہ نہیں ہیں‘ بلکہ مشیت ایزدی اور اسلام کی برکات ان فتوحات کا اصل سبب ہے‘ اس روایت کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جس طرح افواج شام کی سپہ سالاری میں تبدیلی فرمائی اسی طرح افواج عراق کی سپہ سالاری بھی سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے ابو عبیدہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ماتحت بنا دیا تھا۔ آج بھی اگر مسلمان اسلام کی پیروی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا نمونہ بن جائیں تو وہی کامیابیاں اور وہی فتح مندیاں جو قرون اولیٰ میں حاصل ہوئی تھیں پھر حاصل ہونے لگیں۔ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد جو قابل تذکرہ جنگی انتظامات کئے ان میں سب سے پہلا کام یہ تھا کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید کو افواج شام کی اعلیٰ سپہ سالاری سے معزول کر کے سیدنا ابوعبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ کو ملک شام کی اسلامی افواج کا سپہ سالار اعظم بنایا‘ اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں نہ صرف جان فروشی اور کافر کشی میں پہلے سے زیادہ مستعدی دکھلائی بلکہ سیدنا ابوعبیدہ کو ہمیشہ مفید ترین جنگی مشورے دیتے رہے‘ یہی وہ امتیاز خاص ہے جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مرتبہ اور عزت کو تمام دنیا کی نگاہ میں بہت بلند کر دیتا اور ان کو روئے زمین کا بہترین سپہ سالار اور سچا پکا مخلص انسان ثابت کرتا ہے کہ جس کے دل میں رضائے الٰہی کے سوا شہرت طلبی اور ریا کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ دوسرا کام سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ تھا کہ انہوں نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بن مسعود کو ایک فوج کے ساتھ عراق کی جانب روانہ کیا اور ان کو ملک عراق کی تمام اسلامی افواج کا سپہ سالار اعظم مقرر کیا۔ تیسرا کام فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ تھا کہ یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کو ملک یمن کی جانب روانہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اس آخری وصیت کو پورا کریں کہ ملک عرب میں مسلمانوں کے سوا کوئی یہودی اور کوئی نصرانی نہ رہنے پائے۔۱؎ چونکہ مسلمان صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے سوا دو برس دوسرے عظیم امور کی انجام دہی میں مصروف رہے کہ اس وصیت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے پورا کرنے کا ابھی تک موقعہ نہ مل سکا تھا۔