ہجرت کا آٹھواں سال

ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوسفیان ایک جاہ پسند آدمی ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم انہیں کوئی خاص عزت بخشیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اچھا جو شخص خانہ کعبہ میں پناہ لے گا اس کو امان دی جائے گی‘۱؎ اور جو شخص ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر میں پناہ لے گا اس کو بھی امان دی جائے گی‘ اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے گا وہ بھی امان میں رہے گا‘ اور جو شخص بغیر ہتھیار لگائے راہ میں ملے گا اس سے بھی کوئی تعرض نہ کیا جائے گا‘ سیدنا ابوسفیان اپنی یہ عزت افزائی دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اسی وقت اسلامی لشکر مسلح ہو کر مکہ کی طرف بڑھا‘ لشکر اسلام میں الگ الگ قبیلوں کے الگ الگ نشان تھے‘ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے وادی کے سر پر ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر اسلامی لشکر کا نظارہ دیکھا اور پھر سب سے پہلے مکہ میں داخل ہو کر منادی کرا دی کہ جو شخص خانہ کعبہ میں یا میرے گھر میں پناہ لے گا وہ محفوظ رہے گا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش یہی تھی کہ مکہ میں خوں ریزی نہ ہو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مکہ سے بے سروسامانی کے عالم میں اپنا نکلنا یاد آتا تھا اور پھر شاہانہ عظمت اور لشکر عظیم کے ساتھ مکہ میں داخل ہونا دیکھتے تھے تو بار بار شکر باری تعالیٰ بجا لاتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں بلا مزاحمت‘ شوکت وعظمت کے ساتھ داخل ہو کر خانہ کعبہ کی طرف تشریف لے گئے‘ سواری پر سات بار بیت اللہ کا طواف کیا‘ وہاں جس قدر بت تھے سب باہر پھینکوا دیے پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ حاجب کعبہ سے کنجی لے کر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے‘ نماز چاشت ادا کی‘ پھر خانہ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک تقریر فرمائی‘ اہل مکہ بھی گردنیں جھکائے خوف اور شرمساری کے عالم میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے مجرمانہ انداز میں کھڑے ہوئے تھے۔