ہجرت کا آٹھواں سال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تاریخی خطبہ
اللہ ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں‘ اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘ اپنے بندے کی مدد کی اور سارے گروہوں کو شکست دی‘ کسی شخص کو جو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لایا ہے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خوں ریزی کرے‘ کسی سر سبز درخت کا کاٹنا بھی اس میں جائز نہیں ہے‘ میں نے زمانہ جاہلیت کی تمام رسموں کو پائوں میں مسل دیا ہے‘ مگر مجاورت کعبہ اور حاجیوں کو آب زمزم پلانے کا انتظام باقی رکھا جائے گا‘ اے گروہ قریش! تم کو اللہ نے جاہلیت کے تکبر اور آباء پر فخر کرنے سے منع فرمایا ہے‘ کل آدمی آدم علیہ السلام سے اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا ہوئے تھے‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔:
{ٰٓیاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} (الحجرات : ۴۹/۱۳)
’’اے گروہ قریش تم کو معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟‘‘۔
اس سوالیہ فقرے کو سن کر قریش یعنی اہل مکہ نے کہا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بھلائی کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے بزرگ بھائی اور بزرگ بھائی کے بیٹے ہیں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ جواب سن کر فرمایا۔:
اچھا میں بھی تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا {لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ} اذھبوافانتمالطقاء۱؎(آج تم پر کوئی ملامت نہیں جائو تم سب لوگ آزاد ہو‘‘۔
اس خطبہ سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کوہ صفا پر جا بیٹھے اور لوگوںسے اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کی بیعت لینے لگے‘ مردوں کی بیعت سے فراغت پا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو عورتوں سے بیعت لینے پر مامور فرمایا اور خود بہ نفس نفیس ان کے لیے استغفار کرتے رہے۔
صفوان بن امیہ فتح مکہ کے بعد بخوف جان یمن کی طرف بھاگا‘ عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے جو اس کی قوم سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صفوان کے لیے امان طلب کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو امان دی اور اس امر کے ثبوت کی غرض سے اپنا عمامہ جو مکہ میں داخل ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر مبارک پر تھا مرحمت فرمایا‘ عمیر بن وہب صفوان کو یمن کے قریب سے واپس لائے‘ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دو مہینے کی مہلت طلب کی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے چار مہینے کی مہلت عطا فرمائی‘ یہ صفوان وہ شخص تھا جس نے مسلمانوں کے مکہ میں داخل ہوتے وقت مزاحمت کی تھی اور پھر تاب مقاومت نہ لا کر فرار ہو گیا تھا‘ یہی حالت عکرمہ بن ابی جہل کی بھی ہوئی اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے معاف فرمایا‘ یہ دونوں جنگ حنین کے بعد بخوشی مسلمان ہو گئے تھے۔