ہجرت کا آٹھواں سال
مکہ کی طرف روانگی
۱۱ رمضان المبارک ۸ ھ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے‘ قریش ابوسفیان کے ناکام واپس آنے سے پہلے بہت پریشان تھے‘ ان کو مسلمانوں کے ارادہ کی کوئی اطلاع نہ تھی‘ نہ ان کے جاسوسوں اور حلیف قبائل نے ان کو کوئی اطلاع دی تھی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مدینے سے روانہ ہو کر نہایت تیز رفتاری سے مکہ کی طرف چلے جاتے تھے‘ مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مع اہل و عیال مسلمان اور مہاجر ہو کر مدینے کی طرف آتے ہوئے ملے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے اہل و عیال کو تو مدینے کی طرف بھیجوا دیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے ہمراہ لیا۔
اسلامی لشکر بڑھتا ہوا مکہ کے قریب وادی مرالظہران میں (جو مکہ سے چارکوس کے فاصلہ پر ہے پہنچ گیا‘ ابھی تک مکہ والے بے خبر تھے‘ ان کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مسلمان اس عہد شکنی کی ہم کو کیا سزا دیں گے اور کیا طرز عمل اختیار کریں گے‘ مرالظہران میں شام کے وقت لشکر اسلام پہنچ کر کر خیمہ زن ہوا‘ رات ہونے پر چرواہوں کے ذریعہ مکہ میں خبر پہنچی کہ وادی مرالظہران میں ایک لشکر عظیم خیمہ زن ہے‘ یہ خبر سن کر ابوسفیان تفتیش کی غرض سے نکلا‘ بدیل بن ورقا اور حکیم بن حزام بھی اس کے ہمراہ تھے‘ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ فوج دے کر طلایہ گردی پر مامور فرما دیا تھا کہ دشمن شبخون نہ مار سکے‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا دل اپنی قوم کے لیے بے چین تھا‘ وہ جانتے تھے کہ صبح جب اسلامی لشکر مکہ پر حملہ آور ہو گا تو قریش اور مکہ کا نشان باقی نہ رہے گا‘ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح اہل مکہ مسلمان ہو جائیں‘ چنانچہ وہ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خچر دلدل نامی پر سوار ہو کر لشکر گاہ سے نکلے اور مکہ کی جانب چلے‘ اسلامی لشکر گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کے موافق ہزار ہزار کے دستوں نے الگ الگ پڑائو ڈالے تھے اور سب نے آگ روشن کر رکھی تھی۔
ابوسفیان نے جب دور سے آگ روشن دیکھی تو وہ حیران رہ گیا کہ اتنا بڑا لشکر کہاں سے آ گیا‘ بدیل بن ورقاء خزاعی نے کہا کہ یہ خزاعہ کا لشکر ہے‘ ابوسفیان نے سن کر حقارت آمیز لہجہ میں جواب دیا کہ خزاعہ کی کیا مجال ہے کہ اتنا بڑا لشکر لا سکے‘ وہ ایک ذلیل و قلیل قوم ہے۔ رات کی تاریکی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کی آواز پہچانی لی اور وہ اسی خیال سے نکلے تھے کہ کوئی مکہ با اثر آدمی ملے تو اس کو خطرے سے آگاہ کر کے ترغیب دوں کہ اب مسلمان ہو جانا ہی تمہارے لیے مناسب ہے‘ انہوں نے فوراً ابوسفیان کو آواز دی اور کہا کہ یہ لشکر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا لشکر ہے‘ اور صبح مکہ پر حملہ آور ہو گا‘ ابوسفیان کے ہوش و حواس اڑ گئے‘ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قریب آ کر کہا کہ پھر اب کیا تدبیر کریں‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم میرے پیچھے خچر پر سوار ہو جائو میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لیے چلتا ہوں وہیں تم کو امان مل سکے گی‘ ابوسفیان بلاتامل خچر پر سوار ہو گیا اور اس کے دونوں ہمراہی مکہ کی جانب چلے گئے۔
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کئے ہوئے جب اسلامی لشکر گاہ کے قریب لوٹے تو سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ راستے میں ملے‘ انہوں نے ابوسفیان کو پہچان لیا اور قتل کرنا چاہا‘ لیکن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خچر کو مہمیز کر کے تیز رفتاری سے نکل گئے‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پیدل تھے وہ بھی پیچھے پیچھے تلوار لیے ہوئے آئے‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پہلے پہنچے‘ ان کے بعد ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی پہنچ گئے‘ اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! یہ کافر بلاشرط قابو میں آ گیا ہے‘ حکم دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوسفیان کو امان دے چکا ہوں‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر اجازت چاہی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ ! اگر تمہارے خاندان کا کوئی شخص ہوتا تو تم کو اس کے قتل میں اتنا اصرار نہ ہوتا‘ اور اتنی بے صبری نہ کرتے‘ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو جواب دیا کہ عباس رضی اللہ عنہ مجھ کو تمہارے مسلمان ہونے کی اس قدر خوشی حال ہے کہ اپنے باپ کے مسلمان ہونے کی بھی اس قدر خوشی نہ ہوتی‘ کیونکہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے مسلمان ہونے کے خواہاں تھے‘ ان دونوں حضرات میں اس قسم کی باتیں ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اچھا ابوسفیان کو ایک رات کی مہلت دی جاتی ہے‘ اور پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو تم ہی اپنے خیمہ میں رکھو‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کو رات بھر اپنے پاس رکھا‘ صبح کو ابوسفیان نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔۱؎