مغولان چنگیزی

سلطان ابو سعید بہادر خان ابن سلطان محمد

تخت نشینی کے وقت سلطان ابو سعید کی عمر ۱۴ سال کی تھی۔ امراء مغل میں نااتفاقی پیدا ہوئی۔ مگر پھر نفاق و شقاق کے نتائج پر غور کر کے متفق و متحد ہو گئے۔ سلطان ابو سعید بہادر خان نے امیر چوپان کو مدار المہام سلطنت بنا کر اس کی عزت و مرتبہ کو بہت ترقی دی امیر چوپان کے بیٹے امیر حسن جلائر کی شادی بغداد خاتون سے ہوئی۔ سلطان ابو سعید اس عورت پر عاشق ہو گیا تھا۔۱؎ سلطان نے چاہا کہ امیر حسن بغداد خاتون کو طلاق دے دے۔ مگر امیر چوپان نے اس کو گوارا نہ کیا۔ آخر اس معاملے نے یہاں تک طول کھینچا کہ امیر چوپان نے بغاوت اختیار کر کے ملک خراسان پر قبضہ کر لینا چاہا۔ ہرات پر چغتائی خاندان کے لوگوں کی حکومت تھی۔ جو ہلاکو خان کے خاندان سے کدورت رکھتے۔ اور بظاہر مطیع و منقاد تھے۔ ان چغتائی سرداروں میں ایک شخص ترمہ شیرین خان تھا۔ اس کو امیر چوپان نے اپنی مدد پر آمادہ کر لیا۔ سلطان ابوسعید بہادر خان نے لڑائی کا سامان کیا۔ مقابلہ ہوا اور متعدد لڑائیوں کے بعد امیر چوپان گرفتار ہو کر مقتول ہوا۔ اس کے بیٹے امیر حسن جلائر نے بغداد خاتون کو طلاق دے کر سلطان ابو سعید کو اس سے نکاح کر لینے کا موقعہ دیا۔ ۷۳۵ھ میں اوزبک خان بادشاہ دشت قبچاق نے لشکر عظیم کے ساتھ ایران پر چڑھائی کی۔