مغولان چنگیزی

سلطان محمد اولجایتوا بن ارغون خان ابن اباقاخان

سلطان محمود خان کی وفات پر امیر مرقداق نے جو الجائتو سے ناخوش تھا۔ ایک دوسرے شہزادے الافرنگ کو تخت نشین کرنا چاہا۔ یہ حال جب امیر اسمٰعیل ترخان کو معلوم ہوا تو اس نے الجایتو کو اطلاع کی۔ اس نے فوراً الافرنگ اور مرقداق کو گرفتار کر کے قتل کیا۔ اور ماہ ذی الحجہ ۷۰۳ھ میں تخت نشین ہوا۔ اور اپنا لقب سلطان محمد خدا بندہ رکھا۔ بڑے بڑے امراء مثلاً امیر قتلق شاہ امیر چوپان سلدوز‘ امیر فولاد‘ امیر حسین بیگ‘ امیر سونج‘ امیر مولائی‘ امیر سلطان‘ امیر رمضان‘ امیر الغو نے تخت نشینی کے وقت نذریں دکھلائیں۔ سلطان محمد خدا بندہ نے تخت نشین ہوتے ہی حکم دیا کہ شریعت اسلام کی پابندی کا تمام ملک میں خاص طور پر لحاظ رکھا جائے اور خلاف شرع تمام مراسم کو مٹا دیا جائے۔ سلطان محمد خدا بندہ کی حکومت و سلطنت کو بہت جلد قبولیت عامہ حاصل ہو گئی۔ اور روس و خوارزم و بلغاریہ و روم و شام سے لے کر قراقورم۔ سندھ اور عراق تک تمام ممالک میں اس کی بادشاہی تسلیم کی گئی۔ سلطان محمد خدا بندہ کے عہد حکومت میں سلطنت مغلیہ اپنے معراج کمال کو پہنچ گئی۔ اور اس کی سلطنت و حکومت سے مخالفت وانحراف کی کسی کو جرأت نہ ہوئی۔