دولت قرامطۂ باطنیہ (فارس)
احمد بن عطاش
قرامطۂ بحرین کا حال اوپر مذکور ہو چکا ہے۔ ان کی سلطنت کے برباد ہونے کے بعد قرامطہ کے عقائد و اعمال میں ایک خاص تبدیلی پیدا ہوئی۔ اگرچہ قرامطہ بحرین کے بادشاہ اعظم کے اعمال و عقائد دوسرے قرامطہ سے جدا تھے۔ اور اس کو مصر کے عبیدی بادشاہ سے سخت نفرت تھی۔ لیکن قرامطہ کی عام جماعت مصر کے عبیدی فرماں روا کو محبت و عقیدت کی نظر سے دیکھتی اور اس کو اپنا خلیفہ مانتی تھی۔ اب جب کہ بحرین کی حکومت ان کے قبضے سے نکل گئی۔ اور عراق و شام میں ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہ رہی تو انہوں نے خفیہ طور پر اپنی انجمنیں قائم کیں اور بظاہر مسلمانوں میں ملے جلے رہے ان خفیہ جماعتوں کے ذریعہ انہوں نے اپنی تبلیغ اور اپنی جماعت کے ترقی دینے کا سلسلہ جاری کیا۔ عبیدیوں کی طرح انہوں نے جابجا اپنے داعی مقرر کر دیئے ان داعیوں کی جماعت اپنے رازوں کو بہت محفوظ رکھتی تھی۔ زاہدوں اور پیروں کے لباس میں یہ لوگ نظر آتے اور لوگوں کو اپنا مرید بناتے تھے۔ ان مریدوں میں جس شخص کو وہ اپنے ڈھب کا پاتے اس کو رفیق کا خطاب دیتے اور اپنے مخصوص عقائد تعلیم کرتے رہتے تھے۔ اس طرح ان میں دو طبقے تھے۔ ایک داعیوں کا اور دوسرا رفیقوں کا۔ شام‘ عراق‘ فارس اور خراسان میں ہر جگہ داعی پھیل گئے۔ مصر کے عبیدی بادشاہ نے ان کی سر پرستی اور ہر قسم کی امداد کی۔ چنانچہ مصر سے ان داعیوں کے پاس خفیہ طور پر ہر قسم کی امداد پہنچتی رہتی تھی۔ اور سلطنت اسلامیہ کی بربادی کے لیے عبیدیوں نے اسلامی ممالک میں قرامطہ کے داعیوں کا ایک جال غیر محسوس طریقہ پر پھیلا دیا تھا۔ ادھر سلجوقی خاندان ممالک اسلامیہ پر قابض و متسلط ہو رہا تھا۔ اور اس پوشیدہ دشمن سے قطعاً بے خبر تھا۔ قرامطہ بحرین کی حکومت کے مٹنے کے بعد قرامطہ کی تمام تعلیم یافتہ اور ہوشیار جماعت داعیوں کے لباس میں تبدیل ہو گئی تھی۔ اور اسی لیے عبیدی سلطنت کو مصر سے عراق و خراسان کی طرف آدمیوں کے بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ چونکہ یہ لوگ ایک مٹی ہوئی سلطنت کے سو گوار تھے۔ اس لیے موقعہ پا کر ڈاکہ ڈالنے اور لوگوں کو قتل کرنے میں انہیں کوئی باک نہ تھا چنانچہ یہی داعی یا پیر اپنے رفیقوں یعنی خاص مریدوں کی مدد سے رہزنوں اور ڈاکوئوں کے لباس میں بھی تبدیل ہو جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے مریدوں کو تعلیم دی تھی۔ کہ ہر اس شخص کا جو ہمارا ہم عقیدہ نہیں ہے قتل کرنا کوئی جرم کا کام نہیں۔ اس لیے ان کے وجود سے مسلمانوں کو سخت مصائب و شداید میں مبتلا ہونا پڑا۔ چونکہ ان کی کماحقہ‘ سرکوبی ابتداء میں نہ ہو سکی۔ اس لیے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے۔ مسلمان سرداروں کو چھپ چھپ کر قتل کرنا انہوں نے اپنا خاص شیوہ بنا لیا۔ جس جگہ کوئی حاکم نہایت چست اور چوکس ہوتا۔ وہاں یہ بالکل خاموش اور روپوش رہتے۔ لیکن جس جگہ انتظام سلطنت کو کسی قدر کمزور پاتے وہاں قتل و غارت کے ہنگاموں سے قیامت برپا کر دیتے چونکہ قرامطہ نے منافقت اور تقیہ کا لباس پہن لیا تھا۔ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا وہ کار خیر سمجھتے تھے۔ اس لیے ان کو یہ بھی موقع مل جاتا تھا۔ کہ وہ سلطنت و حکومت کی اہلکاریوں اور سرداریوں پر بھی فائز ہو جاتے تھے۔ چنانچہ نواح ہمدان میں ان کا ایک شخص کسی قلعہ کا قلعہ دار مقرر کر دیا گیا۔ انہوں نے اس قلعہ کو اپنا مامن بنا کر اس نواح میں خوب زور شور سے ڈاکہ زنی اور لوٹ مار شروع کر دی چونکہ ان کی جماعت خفیہ طور پر اپنا کام کرتی تھی۔ اس لیے ان کو باطنیہ گروہ کہنے لگے۔ ان باطنیوں نے رفتہ رفتہ ترقی کر کے اصفہان کے قلعہ شاہ ور پر قبضہ کر لیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ باطنیوں کے داعیوں میں ایک مشہور اور ہوشیار شخص عطاش نامی تھا۔ جو اپنے ہم چشموں میں علم و فضل کے اعتبار سے ممتاز تھا۔ اسی نے حسن بن صباح کو اپنے عقائد کی تعلیم دی اور اپنا شاگرد خاص بنایا تھا۔
احمد بن عطاش
عطاش کا ایک بیٹا احمد نامی تھا۔ جو باپ کی جگہ اور اپنے اور اپنی جماعت میں قابل تکریم سمجھا جاتا تھا۔ احمد اپنے گروہ سے رخصت ہو کر اپنی حالت امیر زادوں کی سی بنا کر قلعہ شاہ ور کے قلعہ دار کی خدمت میں گیا۔ اور وہاں نوکر ہو گیا۔ چند ہی روز میں احمد نے ایسی شائستہ خدمات انجام دیں کہ قلعہ دار نے اس کو اپنا نائب بنا لیا۔ اور تمام سیاہ و سفید کا اختیار اس کو سپرد کر دیا۔ چند روز کے بعد وہ قلعہ دار فوت ہو گیا تو احمد نے حکومت وقت سے قلعہ کی حکومت اور قلعہ داری اپنے نام حاصل کر لی۔ احمد بن عطاش نے قلعہ کا راستہ بند ہو جانے کے بعد باطنیہ گروہ کے تمام قیدیوں کو جو اس کے حلقہ حکومت میں قید تھے رہا کر دیا۔ اور ان لوگوں نے رہا ہوتے ہی اصفہان کے علاقے میں لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ ادھر احمد نے اصفہان کے قلعہ شاہ ور کی حکومت حاصل کی۔ ادھر انہیں ایّام میں حسن بن صباح علاقہ طالقان و قزوین میں اپنی سازشوں کا جال پھیلا رہا تھا۔