قرامطہ بحرین
جعفر و اسحاق
جعفر و اسحاق مل کر قرامطہ پر حکومت کرنے لگے۔ اور انہوں نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لیتے ہی خلافت عباسیہ کی اطاعت سے منحرف ہو کر عبیدیین کی خلافت کو تسلیم کیا۔ اور عبیدی بادشاہ کا خطبہ اپنے مقبوضہ ممالک میں جاری کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کوفہ پر حملہ کیا۔ اور قابض ہو گئے۔ صمصام الدولہ بن بویہ نے ایک فوج قرامطہ کی سرکوبی کے لیے کوفہ کی جانب روانہ کی۔ قرامطہ نے اس فوج کو شکست دے کر بھگا دیا۔ اور قادسیہ تک اس کا تعاقب کیا۔ اس کے بعد جعفر و اسحٰق کے درمیان نااتفاقی پیدا ہوئی۔ اور ہر ایک اس کوشش میں مصروف ہوا کہ اپنے حریف کو مٹا کر تنہا بادشاہت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرامطہ کے گروہ میں اضملال و کمزوری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ آخر دوسرے قرامطہ سردار بھی اپنی بادشاہت قائم کرنے کی فکر میں مصروف ہو گئے۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ اصغر بن ابوالحسن تغلبی بحرین پر اور بنی مکرم عمان پر قابض ہو گئے۔ انہوں نے خلافت عباسیہ کی اطاعت قبول کر لی۔ اور تغلبی خاندان نے ۳۷۵ھ تک بحرین سے قرامطہ کا نام و نشان مٹا دیا۔