دولت قرامطۂ باطنیہ (فارس)

حسن بن صباح

حسن بن صباح ملک شاہ بن الپ ارسلان سلجوقی کے وزیر اعظم نظام الملک طوی کا ہم سبق رہ چکا تھا۔ اس نے نظام الملک کے زریعہ دربار سلطانی میں رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر پھر وہاں اپنا رہنا مناسب نہ سمجھ کر نظام الملک کے ایک رشتہ دار ابو مسلم قلعہ دار‘ رے کی خدمت میں چلا آیا۔ اور اس کی مصاحبت میں داخل ہو کر اپنی سازشوں کا جال پھیلانا شروع کیا۔ اتفاقاً ابو مسلم کو معلوم ہو گیا کہ حسن بن صباح کے پاس دولت عبیدیۂ مصر کے جاسوس آتے جاتے ہیں۔ اس نے حسن بن صباح سے اس کے متعلق استفسار کیا۔ حسن بن صباح کو جب یہ معلوم ہو گیا۔ کہ میری سازش کا راز افشا ہو چکا ہے تو وہ وہاں سے چھپ کر فرار ہو گیا۔ اور مستنصر عبیدی کے پاس مصر پہنچا مستنصر عبیدی نے حسن بن صباح کی خوب خاطر مدارات کی۔ حسن بن صباح نے مستنصر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مستنصر نے حسن بن صباح کو داعی الکبیر کا عہدہ عطا کر کے فارس و عراق کی طرف روانہ کیا کہ وہاں جا کر لوگوں کو میری امامت و خلافت کی دعوت دو۔ مستنصر عبیدی کے تین بیٹے تھے۔ احمد۔ نزار اور ابو القاسم۔ رخصت ہوتے وقت حسن بن صباح نے مستنصر سے دریافت کیا۔ کہ آپ کے بعد میرا امام کون ہو گا۔ مستنصر نے جواب دیا کہ میرا بیٹا نزار تمہارا امام ہو گا۔ چنانچہ مستنصر نے نزار ہی کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا۔ مستنصر کی وفات کے بعد وزیر السلطنت اور مستنصر کی بہن نے سازش کر کے ابوالقاسم کو تخت سلطنت پر بٹھایا۔ اور وہی مصر کا فرماں روا ہوا۔ مگر حسن بن صباح نے اس کی امامت کو تسلیم نہ کیا۔ اور نزار ہی کو مستحق امامت مانتا رہا۔ اسی لیے حسن بن صباح کی جماعت کو نزاریہ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ حسن بن صباح مصر سے رخصت ہو کر ایشیائے کو چک اور موصل ہوتا ہوا خراسان پہنچا۔ یہاں علاقہ طالقان و قہستان کی حکومت پر جو گورنر مامور تھا۔ اس نے اپنی طرف سے قلعہ الموت کی حکومت ایک علوی کو سپرد کر رکھی تھی۔ حسن بن صباح اس علوی کے پاس پہنچا اس نے حسن بن صباح کی بے حد تعظیم و تکریم کی اور اپنے پاس ٹھہرایا۔ حسن بن صباح ایک عزیز و مکرم مہمان کی حیثیت اور ایک عابد و زاہد باخدا انسان کی حالت میں عرصہ دارز تک قلعہ الموت (الموت میں الف اور لام دونوں مفتوح ہیں) میں مقیم رہ کر در پردہ اس قلعہ پر قبضہ کرنے کی تدبیروں میں مصروف رہا۔ اور جب اس کی تدبیریں مکمل ہو گئیں تو علوی کو قلعہ سے نکال کر خود قلعہ پر قابض و متصرف ہو گیا۔ یہ زمانہ ملک شاہ سلجوقی کی حکومت کا تھا۔ ملک شاہ کے وزیر نظام الملک طوسی نے اس خبر کو سن کر ایک فوج حسن بن صباح کی سرکوبی اور قلعہ الموت کے محاصرہ پر روانہ کی۔ حسن بن صباح نے اپنے گروہ کے بہت سے آدمیوں کو فراہم کر کے کافی مضبوطی کر لی تھی۔ لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہوا۔ ابھی یہ سلسلۂ جنگ جاری ہی تھا کہ حسن بن صباح نے باطنیہ کے ایک گروہ کو نظام الملک کے قتل پر مامور کیا۔ چنانچہ اس گروہ نے موقعہ پا کر نظام الملک کو قتل کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فوج جو نظام الملک نے بھیجی تھی واپس چلی گئی اس کامیابی کے بعد حسن بن صباح اور اس کے دوستوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے۔ اور بلا تامل ارد گرد کے علاقے پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انہی ایّام میں ایک شخص منور نامی جو سامانی خاندان سے تھا۔ قہستان کا گورنر یا ناظم تھا۔ اس کی ایک سلجوقی وائسرائے سے مخالفت ہو گئی۔ دونوں کی نزاع نے یہاں تک طول کھینچا کہ منور نے حسن بن صباح سے امداد طلب کی۔ حسن بن صباح نے بلا تامل اپنی فوج بھیج کر قہستان پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح رفتہ رفتہ حسن بن صباح کی طاقت و شوکت نے ترقی اختیار کی۔ ادھر ملک شاہ کی وفات کے بعد سلجوقی سرداروں میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بجائے اس کے کہ وہ حسن بن صباح کا استیصال کرتے اپنی خانہ جنگیوں میں اس سے مدد طلب کرنے لگے۔ اس طرح حسن بن صباح کی حکومت و سلطنت کا سکہ جم گیا سلطان برکیارق نے اپنے بھائی محمد کے مقابلہ میں ان باطنیوں سے امداد طلب کر کے اور بھی زیادہ ان کی عظمت کو بڑھا دیا۔ مگر چند ہی روز کے بعد سلطان برکیارق کو ان باطنیوں کے قتل عام کا حکم دینا پڑا۔ ادھر احمد بن عطاش نے قلعہ شاہ در پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ آخر سلجوقیوں نے احمد بن عطاش اور اس کے ساتھیوں کو ہر طرف سے محاصرہ کر کے مجبور کر دیا۔ بہت سے باطنیوں نے سلطان سلجوقی سے اس شرط پر امان کی درخواست کی کہ ہم سب حسن بن صباح کے پاس قلعہ الموت میں چلے جائیں گے۔ اور نواح اصفہان کو بالکل خالی کر دیں گے چنانچہ ان کو اسی شرط پر حسن بن صباح کے پاس جانے کی اجازت دی گئی۔ احمد بن عطاش کو گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔ اور اس کی کھال میں بھس بھرا گیا۔ اس کی بیوی نے خود کشی کر لی۔ اس طرح باطنیہ اصفہان کا تو خاتمہ ہو گیا۔ مگر حسن بن صباح کی طاقت و جمعیت میں خوب اضافہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہی تمام باطنیوں کا مرکز اور قبلہ توجہ رہ گیا تھا۔ باطنیوں کے ہزار ہا افراد بحیثیت داعی شام و عراق و فارس میں پھیلے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں علانیہ انہوں نے اپنی دعوت کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ بعض قلعوں پر بھی وہ قابض و متصرف ہو گئے تھے۔ مگر رفتہ رفتہ مسلمانوں نے ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہو کر تمام قلعے ان سے چھین لیے اور حکومت و قوت ان سے جدا کر لی۔ لیکن الموت اور اس کے نواح پر حسن بن صباح کا قبضہ برابر جاری رہا۔ حسن بن صباح کا صحیح نام و نسب اس طرح ہے حسن بن علی بن احمد بن جعفر بن حسن بن صباح الحمیری سلجوقیوں کی خانہ جنگیوں اور ضعف و اختلال نے باطنیوں کی حکومت کو مستقل و پائیدار ہونے کا موقعہ دیا۔ جس کو بعد میں فدائیوں کی سلطنت سلطنت اسماعیلیہ‘ سلطنت حشاشین وغیرہ ناموں سے یاد کیا گیا۔ حسن بن صباح جس طرح اس سلطنت و حکومت کا بانی تھا۔ اسی طرح وہ اپنے فرقہ اور مذہب کا بھی بانی سمجھا گیا۔ اس نے عام باطنیوں کے خلاف بعض نئے نئے طریقے اعمال و عبادات میں ایجاد کیے۔ اس کے تمام مریدین اس کو سیدنا کہتے تھے۔ عام طور پر شیخ الجبل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ وہ ۳۵ سال قلعہ الموت پر قابض و حکمران رہا۔ اس عرصہ میں ایک دن کے لیے بھی اس قلعہ سے باہر نہیں نکلا۔