قرامطہ بحرین

ابوطاہر کی غار تگری

۳۱۲ھ میں ابوطاہر حاجیوں کے قافلے لوٹنے کے لیے نکلا۔ شاہی سپہ سالار ابوالہیحا بن حمدون کو جو قافلہ کے ہمراہ تھا۔ گرفتار کر لیا۔ اور حاجیوں کو خوب لوٹا۔ اور ہجر کی جانب واپس گیا۔ ۳۱۴ھ میں ابوطاہر نے عراق کی طرف فوج کشی کی کوفہ اور نواح کوفہ کو بصرہ کی مانند قتل و غارت سے تباہ و برباد کر دیا۔ یہاں سے بحرین کی طرف واپس جا کر شہر احساء کی آبادی و تعمیر کا کام شروع کیا۔ اپنے اور اپنے ہمراہیوں کے لیے محلات و قصور تعمیر کرائے۔ اور اس کو اپنا دارالسلطنت بنایا۔ ۳۱۵ھ میں ابوطاہر نے عمان پر حملہ کیا۔ حاکم عمان بھاگ کر بہ راہ دریا فارس چلا گیا اور ابوطاہر نے عمان کے صوبے کو اپنی مملکت میں شامل کیا۔ ۳۱۶ھ میں اس نے شمال کی جانب حملہ آوری شروع کی۔ خلیفہ مقتدر عباسی نے آذر بائیجان سے یوسف بن ابی الساج کو طلب فرما کر واسط کی سند حکومت عطا کی اور ابوطاہر سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ کوفہ کے باہر یوسف اور ابوطاہر کا مقابلہ ہوا۔ سخت معرکہ آرائی کے بعد یوسف کی فوج کو شکست ہوئی اور یوسف کو ابوطاہر نے گرفتار کر لیا۔ بغداد میں اس خبر سے سخت پریشانی پیدا ہوئی۔ ابوطاہر کوفہ سے انبار کی جانب روانہ ہوا۔ دربار خلافت سے اس کی روک تھام کے لیے مونس خادم‘ مظفر اور ہارون وغیرہ سردار مامور ہوئے۔ مگر ابوطاہر کے مقابلے میں سب شکست کھا کر واپس بغداد آئے۔ اور ابوطاہر رحبہ کی طرف بڑھا۔ رحبہ کو بھی خوب پامال و ویران کیا۔ اس کے بعد صوبہ جزیرہ کو متواتر اپنے حملوں سے پامال کرتا پھرا اور کوئی اس کو نہ روک سکا۔ اس کے بعد وہ جزیرہ کے اکثر قبائل پر خراج سالانہ مقرر کر کے احساء چلا گیا۔ اور بہت سے لوگ قرمطی مذہب میں داخل ہو گئے۔