قرامطہ بحرین

مکہ معظمہ پر چڑھائی

۳۱۷ھ میں ابو طاہر نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کی۔ بہت سے حاجیوں کو قتل کیا۔ اور مکہ کو خوب لوٹا۔ میزاب اور خانہ کعبہ کے دروازے کو اکھیڑ ڈالا۔ غلاف کعبہ اتار کر اپنے لشکر میں تقسیم کر دیا۔ اور حجرا سود کو نکال کر اپنے ساتھ ہجر کی طرف لے گیا۔ اور چلتے وقت اعلان کر گیا۔ کہ آئندہ حج ہمارے یہاں ہوا کرے گا۔ حجراسود کے واپس کرنے کے لیے لوگوں نے ابو طاہر سے بہت خط و کتابت کی اور بعض ۱؎یہ قرامطی اس قدر خبیث اور گمراہ تھے کہ بیت اللہ شریف سے حجر اسود اٹھا لائے تھے اور اسے کئی سال اپنے پاس رکھا۔ بیت اللہ شریف کی بھی بے حرمتی کی۔ عام مساجد کا انہدام شاید ان کے نزدیک معمولی بات تھی۔ سرداروں نے پچاس ہزار دینار اس کے معاوضے میں دینے چاہے۔ مگر ابوطاہر نے اس کو واپس نہ کیا۔ ابو طاہر نے اس کے بعد مسلسل اپنی حملہ آوریوں کے سلسلے کو جاری رکھا۔ اور عراق و شام کو اپنی تاخت و تاراج سے برباد کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اہل دمشق پر بھی اس نے سالانہ ٹیکس مقرر کیا۔