قرامطہ بحرین
ابوطاہر
ابوطاہر نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر ۲۸۷ھ میں بصرہ پر حملہ کیا۔ اور بصرہ کو اچھی طرح لوٹ مار سے پامال کر کے بحرین کی طرف واپس ہوا۔ اس خبر کو سن کر دارالخلافہ بغداد میں بڑی تشویش پیدا ہوئی۔ اور خلیفہ مقتدر نے بصرہ کی شہر پناہ کے درست کرنے کا حکم دیا۔ ابوطاہر کامیابی کے ساتھ علاقہ بحرین میں حکومت کرتا رہا۔ اسی دوران میں اس نے عبیداللہ مہدی سے بھی خط و کتابت کی اور عبیداللہ مہدی نے اس کی حکومت و سلطنت کو بہ نظر اطمینان دیکھا۔ ۳۱۱ھ میں ابوطاہر نے بصرہ پر دوبارہ حملہ کر کے اس کو ویران کر دیا۔ جامع مسجد بالکل منہدم کر دی گئی۔ جو عرصہ تک مسمار پڑی رہی۔۱؎ بازاروں کو لوٹ کر خاک سیاہ کر دیا۔