قرامطہ بحرین
ابوسعید جنابی
ابوسعید جنابی چونکہ ایک سر بر آوردہ شخص تھا۔ اس نے شہر بحرین میں بھی جا کر دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔ اور لوگوں کو اپنا ہم خیال یعنی امام زمان کا منتظر بنایا۔ رفتہ رفتہ بادیہ نشین عربوں کا ایک گروہ کثیر ابوسعید کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اور وہ قرامطہ بھی جو یحییٰ قرمط کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ آ آ کر یحییٰ کے گرد جمع ہونے لگے۔ ابوسعید نے اپنی تمام جماعت کو ایک باقاعدہ فوج کی شکل میں ترتیب دیا اور اس فوج کو ہمراہ لے کر قطیف سے بصرہ کی جانب روانہ ہوا۔ بصرہ کے عامل احمد بن محمد بن یحییٰ کو جب ابوسعید کی تیاریوں کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو کمزور پا کر دربار خلافت کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ دربار خلافت سے عباس بن عمر غنوی والی فارس کے نام حکم پہنچا کہ بصرہ کو بچائو چنانچہ عباس بن عمر غنوی دو ہزار سوار لے کر روانہ ہوا۔ جب عباس اور ابوسعید کا مقابلہ ہوا تو ابوسعید نے عباس کو گرفتار کر کے اس کے لشکر گاہ کو لوٹ لیا۔ چند روز کے بعد عباس کو تو رہا کر دیا۔ مگر اس کے ہمراہیوں کو جو گرفتار ہوتے تھے۔ قتل کر دیا۔ اس کامیابی سے ابوسعید کا دل بڑھ گیا۔ اور اس نے ہجر پر حملہ کر کے اس کو فتح کر لیا۔ اور اپنی حکومت کی بنیاد قائم کی۔ ابو سعید اور اس کی جماعت کے اعمال و عقائد بھی بہت کچھ وہی تھے جو اوپر قرمط یحییٰ کے بیان ہوئے۔ اس لیے یہ بھی قرمط ہی کے نام سے موسوم ہوئے۔ ابوسعید نے اپنی حکومت کی بنیاد قائم کر کے اپنے بیٹے سعید کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔ یہ بات ابوسعید کے چھوٹے بھائی ابوطاہر سلیمان کو ناگوار گذری۔ اس نے ابوسعید کو قتل کر دیا۔ اور خود اس گروہ قرامطہ کا حکمران بن گیا۔