عبدالرحمن ثالث
عیسائی بادشاہ کو دو سو قلعے دے کر صلح ہوئی
آخر طول محاصرہ سے تنگ آ کر عیسائی بادشاہ کو مستعین کی ہمراہی سے جدا کرنے کے لیے سلام و پیام کاسلسلہ جاری ہوا۔ اور عیسائی بادشاہ کی خواہش کے موافق ہشام نے دو سو قلعے مع چند بڑے بڑے شہروں کے جو شمال کی جانب ابن اوفونش کی ریاست کے متصل تھے اس کو دے دئیے اور سند لکھ کر بھیج دی۔ اوفونش نے اس سند کے ذریعہ اس نئے علاقہ پر قبضہ کیا۔ اور مستعین کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مستعین اور اس کے ہمراہی بربری برابر مصروف محاصرہ رہے مگر چونکہ محاصرہ کمزور ہو گیا تھا۔ لہٰذا اب مقابلہ اور معرکہ کی یہ صورت ہو گئی کہ کبھی شہر والے بربریوں کو مارتے ہوئے دور تک پیچھے ہٹا دیتے۔ اور کبھی بربری شہر والوں کو شکست دے کر شہر کے اندر گھس جاتے۔ یہ حالت بہت دنوں تک جاری رہی۔ اس عرصہ میں کئی عیسائی حکمرانوں نے اپنی بغاوت اور مستعین کی مدد کرنے کا دبائو ڈال کر دربار قرطبہ سے ابن اوفونش کی طرح سری صوبوں کی سندیں حاصل کیں۔ اور بہت سا ملک عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔