عبدالرحمن ثالث

ہشام کی دوبارہ تخت نشینی

واضح عامری کو جو منصور بن ابی عامر کا آزاد کردہ غلام تھا۔ حجابت یعنی وزارت عظمیٰ کا عہدہ ملا۔ واضح نے مہدی کا سر مستعین کے پاس وادی شوس میں بھیجا۔ اور لکھا کہ اب خلیفہ ہشام دوبارہ تخت خلافت پر متمکن ہو چکا ہے۔ اور مہدی قتل کر دیا گیا ہے۔ مناسب یہ ہے کہ تم خلیفہ وقت کی اطاعت اختیار کرو۔ اور طریق سرکشی سے بار رہو۔ لیکن چونکہ مستعین کے ساتھ اس غارت گری میں ابن اوفونش عیسائی بادشاہ بھی شریک ہو گیا تھا۔ لہٰذا واضح عامری کے اس پیغام کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا گیا اور ابن اوفونش اور مستعین نے مل کر قرطبہ پر حملہ کیا قرطبہ کے اردگرد کا تمام علاقہ برباد کر کے قرطبہ کا محاصرہ کر لیا گیا۔