عبدالرحمن ثالث

مہدی کی معزولی

واضح عامری مہدی کے ساتھ تھا۔ اس نے جب ملک کو اس طرح تباہ اور حکومت اسلامیہ کو برباد ہوتے دیکھا تو شہر قرطبہ کے با اثر لوگوں سے مشورہ کر کے مہدی کے معزول اور خلیفہ ہشام ثانی کے دوبارہ تخت نشین کرنے کی تیاری کی چنانچہ ۱۱ ذی الحجہ ۴۰۰ھ کو ہشام دوبارہ قید خانہ سے نکال کر تخت خلافت پر بٹھایا گیا۔ اور مہدی کو سر دربار ہشام کے روبر و غیر نامی غلام نے قتل کیا۔