عبدالرحمن ثالث

مہدی بن ہشام بن عبدالجبار

ہشام نے لوگوں کی خواہش معلوم کر کے بلا توقف بذریعہ تحریر تخت خلافت سے دست برداری اختیار کی محمد بن ہشام المخاطب بہ مہدی نے اس کو قصر خلافت کے ایک حصے میں نظر بند کر دیا۔ اور اپنے ایک چچا زاد بھائی محمد بن مغیرہ کو حاجب السلطنت اور دوسرے چچا زاد بھائی امیہ بن الحاف کو کوتوال قرطبہ مقرر کیا۔ اس کے بعد منصور اعظم کے شہر و قصر زاہرہ کی طرف فوج بھیجی۔ وہاں کے رہنے والوں نے بلا مقابلہ دروازے کھول دئیے۔ خلیفہ مہدی کی فوج نے تمام قصر اور عمارات کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیا۔ اور تمام مال و اسباب لوٹ کر زاہرہ کا نام نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ یہ حادثہ ۳۹۹ھ یا ۴۰۰ھ میں وقوع پذیر ہوا اس کے بعد ناصر کے قتل اور خاندان ابن ابی عامر کی حکومت کے ختم ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ اور چوتھی صدی ہجری کے خاتمہ پر اندلس کی حکومت اسلامیہ کی عظمت و شان ختم ہو کر طائف الملوکی کا دروازہ کھلا۔