عبدالرحمن ثالث

فوجیوں کا اقتدار

خلیفہ ہشام ثانی کو معزول اور خلیفہ مہدی کو تخت نشین کر کے اور سلطان ناصر کی مخالفت میں فوراً قریشیوں اور امویوں کے شریک حال بن جانے میں بربری افواج نے سب سے زیادہ حصہ لیا تھا۔ لہٰذا اب خلیفہ مہدی کی حکومت و خلافت میں بربریوں اور فوجی آدمیوں کا اقتدار حد سے زیادہ بڑھ گیا۔ اور خلافت کی باگ یک لخت فوجی لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی۔ ان لوگوں نے رعایا پر تشدد شروع کیا۔ رعایا نے تنگ آ کر خلیفہ مہدی سے شکایت کی۔ مہدی سے رعایا کی فریاد کو اس لیے نہ سنا کہ وہ بربریوں کو ناراض کرنا خلاف مصلحت سمجھتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل قرطبہ میں جو لوگ مہدی کے طرف دار اور اس کو تخت خلافت پر بٹھانے میں سر گرم رہے تھے سب ناراض ہو گئے اور اس تکلیف دہ حکومت سے آزاد ہونے کی تدبیریں سوچنے لگے۔ بربریوں کی زیادتیوں سے تنگ آ کر اہل شہر نے بربریوں کے چند شخصوں کو قتل کر دیا۔ خلیفہ مہدی نے ان قاتلوں کو قصاص میں قتل کیا۔ اس طرح رعایا کی ناراضگی دن بہ دن ترقی کرتی گئی۔