عبدالرحمن ثالث

ہشام کی معزولی

ناصر اپنی حکومت کے پہلے ہی سال اپنے بھائی اور باپ کی سنت کے موافق فوج لے کر سرحد کی طرف عیسائیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوا۔ قرطبہ میں قریشیوں اور امویوں کو یہ دیکھ کر کہ حکومت و خلافت خاندان بنو امیہ سے نکل کر ایک اور خاندان میں جا رہی ہے۔ سخت ملال ہوا تھا۔ انہوں نے خاندان خلافت کی حمایت کے لیے لوگوں کو خفیہ طور پر آمادہ کرنا شروع کیا۔ اب جب کہ ناصر مع فوج شمالی سرحد پر گیا ہوا تھا۔ قرطبہ والوں نے قرطبہ کی موجودہ فوج کے ان افسروں کو جو ناصر کے ہمدرد ہوا خواہ تھے قتل کر کے خلیفہ ہشام ثانی کو معزول کر دیا اور اس کی جگہ خلیفہ عبدالرحمن ثالث کے پرپوتے محمد بن ہشام بن عبدالجبار بن خلیفہ عبدالرحمن ثالث کو تخت نشین کر کے ’’مہدی باللہ‘‘ کا لقب دیا۔ ناصر عبدالرحمن نے اس طرح ہشام کے معزول اور مہدی کے تخت نشین ہونے کی خبر سن کر فوراً قرطبہ کی جانب کوچ کیا۔ جب قرطبہ کے قریب پہنچا تو اس کی فوج کے اکثر سردار اور بربری سپاہی خلیفہ مہدی کی خدمت میں چلے آئے۔ ناصر جب بہت ہی تھوڑے سے آدمیوں کے ساتھ حیران و پریشان رہ گیا تو اسی کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے ناصر کو قتل کر دیا۔ اور اس کا سر اتار کر قرطبہ میں خلیفہ مہدی کے پاس لے آیا۔ اس طرح حکومت بنی عامر کا خاتمہ ہوا۔ اور ساتھ ہی اندلس میں طائف الملوکی کا دور دورہ شروع ہوا۔