عبدالرحمن ثالث
مال گذاری کی آمدنی
اس خلیفہ کے عہد میں دو کروڑ چون لاکھ اسی ہزار دینار سالانہ مال گذاری داخل خزانہ عامرہ ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ سات لاکھ ۶۵ ہزار دینار مختلف ذرائع سے وصول ہوتے تھے یہ تمام آمدنی ملک اور رعایا پر ہی خرچ کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ جو روپیہ بطور خراج و جزیہ عیسائیوں اور یہودیوں سے وصول ہوتا تھا۔ وہ خاص خزانہ شاہی میں داخل کر دیا جاتا تھا۔ اس آمدنی کی کوئی تعداد معین نہ تھی۔ اس میں سے ایک ثلث فوج اور اہل کاران سلطنت کی تنخواہوں میں خرچ ہوتا تھا۔ ایک ثلث خاص سلطان کی جیب خاص کے لیے مقرر تھا۔ باقی کل رقم عمارتوں‘ پلوں اور سڑکوں وغیرہ پر خرچ کی جاتی تھی۔