عبدالرحمن ثالث
پاک باطنی
قاضی القضاۃ منذر بن سعید بلوطی کا ذکر اوپر آ چکا ہے ان کا ایک واقعہ جو عبدالرحمن ناصر کے ساتھ ہوا ذکر کرنے کے قابل ہے۔ وہ یہ کہ عبدالرحمن نے قرطبہ میں ایک مکان کو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے خریدنا چاہا۔ وہ مکان یتیم بچوں کی ملکیت تھی اور وہ یتیم بچے قاضی منذر کی نگرانی میں تھے۔ جب قاضی کے پاس اس مکان کی خریداری کا پیغام پہنچا تو قاضی صاحب نے فروخت کرنے سے انکار کر دیا اور خلیفہ کی خدمت میں کہلا بھجوایا کہ یتیموں کی جائداد اس وقت منتقل ہو سکتی ہے جب کہ ان تین شرطوں میں سے کوئی ایک شرط پوری ہو۔ (۱) کوئی سخت ضرورت لاحق ہو (۲) جائداد کے تلف ہو جانے کا اندیشہ ہو (۳) ایسی قیمت ملتی ہو کہ جس کے لینے میں یتیموں کا آئندہ فائدہ متصور ہو۔ فی الحال ان تینوں شرطوں میں سے کوئی شرط موجود نہیں اور ملازمین سرکار نے جو قیمت اس مکان کی تجویز کی ہے وہ بہت کم ہے۔ خلیفہ یہ پیغام سن کر خاموش ہو گیا۔ اور اس نے سمجھا کہ قاضی بغیر قیمت بڑھائے نہ مانے گا ادھر قاضی منذر کو اندیشہ ہوا کہ کہیں خلیفہ اس مکان کو زبر دستی نہ چھین لے۔ چنانچہ قاضی نے فوراً مکان کو منہدم کرا دیا۔ اس کے بعد ملازمین شاہی نے دگنی قیمت دے کر اس زمین کو خریدا۔ خلیفہ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے قاضی کو بلا کر مکان کے منہدم کرانے کا سبب دریافت کیا۔ قاضی منذر نے کہا۔ جس وقت میں نے مکان کے منہدم کرنے کا حکم دیا ہے اس وقت میرے زیر نظر قرآن کی یہ آیت تھی:
{فَانْطَلَقَا حَتّٰٓی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ خَرَقَھَا قَالَ اَخَرَقْتَھَا لِتُغْرِقَ اَھْلَھَا لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا} (الکھف : ۱۸/۷۱)
’’تو دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا : ’’کیا آپ نے اس کو اس لیے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں! یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی۔‘‘
خلیفہ یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ اور اس روز سے قاضی منذر کی اور زیادہ عزت کرنے لگا۔ اس واقعہ سے قاضی اور خلیفہ دونوں کی پاک باطنی کا ثبوت ملتا ہے قاضی منذر ۳۵۵ھ میں خلیفہ ناصر سے پانچ سال بعد فوت ہوئے۔
امیر المومنین خلیفہ عبدالرحمن ثالث ناصرلدین اللہ نے ۲ رمضان المبارک ۳۵۰ھ کو ۷۲ سال چند ماہ کی عمر میں بمقام قصر الزہراء وفات پائی۔