زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا
زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا
(لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرنا اچھا نہیں لگے گا؛ وہ اسے تاوان سمجھنے لگیں گے)
اصل تو یہ ہے کہ مال اور سونے چاندی کی زکوٰۃ ادا کرکے دلی خوشی محسوس ہونی چاہیے؛ اس لیے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی مال کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ رب کی رضامندی ( کاسامان ) بھی ہے۔ یہ نہ ہی تو کوئی ٹیکس ہے اور نہ ہی جرمانہ۔ آخری زمانے میں بدترین قسم کی لالچ اور خود غرضی عام ہوجائے گی۔ بعض مالدار لوگ زکوٰۃ ادا کرتے ہوئے یہ تصور کریں گے کہ وہ تاوان ادا کررہے ہیں ؛ حالانکہ وہ ان کی رضامندی سے وصول کی جارہی ہوگی۔تو وہ اپنے دل کی خوشی کے بغیر زکوٰۃ ادا کرے گا، سو اسے اچھی نیت نہ ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی اجر نہیں ملے گا۔