حسنِ خلق
تواضع و انکسار کی عظمت اور تکبر کی مذمت
ذلت و بے قدری سے اجتناب کرتے ہوئے مسلمان کا شیوہ ہے کہ وہ تواضع کا عادی ہوتا ہے اور یہ اس کی بلند پایہ صفات میں سے ایک ہے،اس میں بڑائی اور تکبر نہیں ہوتا،تواضع میں رفعت اور بلندی ہے اور تکبر میں گراوٹ،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تواضع کرنے والوں کو بلندی عطا کرتا ہے اور بڑائی کرنے والے لوگوں کو گرا دیتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:’مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ،وَمَا زَادَ اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا،وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ‘
’’خیرات مال کو کم نہیں کرتی۔معاف کرنے پر اللہ بندے کو اور عزت عطا کرتا ہے اور جو اللہ کے لیے تواضع کرے،اللہ اسے اونچا کرتا ہے۔‘‘[2]
اور فرمایا:’حَقٌّ عَلَی اللّٰہِ أَنْ لَّا یَرْتَفِعَ شَيْئٌ مِّنَ الدُّنْیَا إِلَّا وَضَعَہُ‘
’’یہ بات اللہ پر حق ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی اونچی ہوتی ہے،وہ اسے گرا دیتا ہے۔‘‘[3]
مزید ارشاد ہے:’یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ یُّسَاقُونَ إِلٰی سِجْنٍ فِي جَھَنَّمَ یُقَالُ لَہُ:بُولَسُ تَعْلُوھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ،یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِینَۃِ الْخَبَالِ‘
’’قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی طرح اٹھائے جائیں گے جبکہ ان کی صورتیں انسانی ہوں گی۔ہر جگہ ان پر ذلت حاوی ہو گی،جہنم سے’ ’بولس‘‘نامی ایک قید خانے میں انھیں دھکیلا جائے گا،سب سے بڑی آگ ان پر غالب ہو گی اور انھیں جہنمیوں کی پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔‘‘[1]
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کلام مقدس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین عالیہ میں جب ایک مسلمان،متواضع مسلمان کی تعریف اور متکبرین کی مذمت پر توجہ دیتا ہے اور غور کرتا ہے کہ اللہ نے تواضع کا حکم دیا ہے اور بڑائی سے منع کیا ہے تو وہ تواضع پسند کیوں نہ بنے گا اور تکبر و بڑائی سے اسے نفرت اور عداوت کیوں نہ ہو گی؟
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تواضع کا حکم دیا ہے،فرمایا:
﴿وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾’’اور جو مومن آپ کے پیروکار ہو گئے ہیں،ان کے لیے اپنا بازو جھکا دیں۔‘‘[2]
اور حکم ربانی ہے:﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا﴾’’اور زمین پر اکڑ کر نہ چل۔‘‘[3]
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی صفت’’تواضع‘‘کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾
’’وہ(اللہ)ان سے محبت کرتا ہے اور وہ(لوگ)اس(اللہ)سے محبت کرتے ہیں،مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہیں۔‘‘[4]
اور تواضع کرنے والوں کا صلہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا﴾
’’وہ(جو)آخرت کا گھر(ہے)ہم نے اسے ان لوگوں کے لیے بنایا ہے،جو زمین میں برتری اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے۔‘‘[5]
تواضع کے حکم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’إِنَّ اللّٰہَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰی لَا یَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ،وَلَا یَبْغِي أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ‘
’’بے شک اللہ نے مجھے وحی کی ہے کہ تواضع اختیار کرو اور کوئی کسی پر فخر و بڑائی نہ کرے اور نہ کوئی دوسرے پر زیادتی کرے۔‘‘[6]
تواضع کی ترغیب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا إِلَّا رَعَی الْغَنَمَ،فَقَالَ أَصْحَابُہٗ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ،کُنْتُ أَرْعَاھَا عَلٰی قَرَارِیطَ لِأَھْلِ مَکَّۃَ‘
’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جو نبی بھی مبعوث کیا،اس نے بکریاں چرائی ہیں۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کیا آپ نے بھی؟ تو آپ نے فرمایا:’’ہاں،میں نے بھی چند قیراط کے عوض اہل مکہ کی بکریاں چرائی ہیں۔‘‘[1]
نیز فرمایا:’لَوْ دُعِیتُ إِلٰی ذِرَاعٍ أَوْ کُرَاعٍ لَّأَجَبْتُ،وَلَوْ أُھْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ أَوْکُرَاعٌ لَّقَبِلْتُ‘
’’اگر مجھے بکری کے بازو یا پائے کے لیے دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کر لوں گا اور اگر مجھے بکری کے بازو یا پائے کا تحفہ دیا جائے تو بھی قبول کر لوں گا۔‘‘[2]
کبر و غرور سے نفرت دلاتے ہوئے فرمایا:’أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَھْلِ النَّارِ؟ کُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُّسْتَکْبِرٍ‘
’’کیا میں تمھیں جہنمیوں کا پتہ نہ دوں ؟ ہر وہ شخص جو سخت طبیعت،اترانے والا اور اپنے آپ کو بڑا جاننے والا ہے۔‘‘[3]
اور ارشاد ہے:’ثَلَاثَۃٌ لَّا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیھِمْ(وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْھِمْ)وَلَھُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ،شَیْخٌ زَانٍ،وَمَلِکٌ کَذَّابٌ،وَعَائِلٌ مُّسْتَکْبِرٌ‘
’’تین افراد کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا:بوڑھا زانی،جھوٹا بادشاہ اور فقیر بڑائی کرنے والا۔‘‘[4]
نیز فرمایا:’یَقُولُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ:اَلْعِزُّ إِزَارِي وَالْکِبْرِیَائُ رِدَائِ ي،فَمَنْ نَّازَعَنِي شَیْئًا مِّنْھُمَا عَذَّبْتُہُ‘
’’اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ عزت میری تہبند اور بڑائی میری چادر ہے،سو جو کوئی ان میں سے کسی ایک کو بھی مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا،میں اسے عذاب دوں گا۔‘‘[5]
مزید فرمایا:’بَیْنَمَا رَجُلٌ یَّمْشِي فِي حُلَّۃٍ تُعْجِبُہُ نَفْسُہُ،مُرَجِّلٌ جُمَّتَہُ إِذْ خَسَفَ اللّٰہُ بِہِ فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘
’’ایک شخص ’’حلہ‘‘(قیمتی جوڑے)میں ملبوس خود پسندی میں مبتلاہوکر چل رہا تھا،اپنے سر کے بال سنوارے ہوئے،چلنے میں اتراتا تھا کہ اللہ عزوجل نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔‘‘[1]
تواضع کے مظاہر:
٭ جو انسان اپنے جیسوں سے آگے چلنے کی کوشش کرے،وہ متکبر ہے اور جو پیچھے رہے،وہ متواضع ہے۔
٭ صاحب علم و فضل کی ملاقات کے لیے اٹھے،اسے بٹھائے اور اس کے جوتے سیدھے کرے اور گھر کے دروازے تک اس کے ساتھ جا کر الوداع کرے،یہ شخص متواضع ہے۔
٭ زیادتی کرنے والے کے ساتھ خوشی و انبساط سے ملنا۔سوال میں نرمی کا اظہار،اس کی دعوت قبول کرنا،اس کا کام کر دینا اور اپنے آپ کو اس سے بہتر نہ سمجھنا بھی تواضع ہے۔
٭ جوشخص اپنے سے علم و فصل میں کم تر یا برابر کی ملاقات کو جائے،اس کے ساتھ سامان اٹھائے یا اس کے کام کے لیے اس کے ساتھ جائے،وہ متواضع ہے۔
٭ فقراء،مساکین اور مصیبت زدہ لوگوں کے پاس بیٹھنے والا،ان کے ساتھ کھانا کھانے اور ان کے ساتھ راستہ میں چلنے والا بھی متواضع کہلائے گا۔
٭ کھانے پینے میں اسراف سے بچنے اور لباس میں تکبر و غرور سے احتراز کرنے والا بھی متواضع ہے۔
تواضع کی چند عظیم مثالیں:
1: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ رات کو لکھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک مہمان آگیا۔چراغ بجھ رہا تھا،مہمان چراغ درست کرنے کے لیے جانے لگا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا:مہمان سے خدمت لینا کرم و شرف کے خلاف ہے۔مہمان نے کہا:میں نوکر کو اٹھا دیتا ہوں۔عمر رحمہ اللہ نے فرمایا:وہ ابھی ابھی سویا ہے،اسے اٹھانا مناسب نہیں ہے،چنانچہ خود اٹھے تیل کی بوتل سے چراغ بھر کر روشن کر دیا،جب مہمان نے کہا:آپ نے خود ہی یہ کام کر لیا ہے۔تو فرمایا:میں پہلے بھی عمر تھا اور اب بھی وہی ہوں،میرے اندر کوئی بھی کمی نہیں ہوئی اور انسانوں میں اچھا وہ ہے جو اللہ کے ہاں متواضع ہے۔
2: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے مدینہ کے بازار سے گزر رہے تھے اور وہ ان دنوں مدینہ میں مروان کے قائم مقام تھے اور فرما رہے تھے کہ ’’امیر(ابوہریرہ خود)آ رہا ہے،گزرنے کے لیے راستہ کھلا کر دو،اس لیے کہ وہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے ہے۔‘‘[2]
3: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن بائیں ہاتھ میں گوشت اٹھائے ہوئے تھے اور دائیں میں درہ تھا اور یہ ان دنوں خلیفہ اور امیر المؤمنین تھے۔
4: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن کچھ کھجوریں خریدیں اور اپنی چادر میں باندھ لیں،ساتھیوں نے کہا:انھیں ہم اٹھا لیتے ہیں تو حضرت علی نے فرمایا:جن بچوں نے کھانی ہیں ان کا باپ اٹھائے یہ بہتر ہے۔[1]
5: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی لونڈی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں چاہتی دوسرے لوگوں سے الگ(بات کرنے کے لیے)لے جاتی۔[2]
6: ابو سلمہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا:لوگوں نے لباس،طعام،سواری اور پینے کی چیزوں میں کیا کیا ایجادات کر لی ہیں۔ابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:بھتیجے!آپ کا کھانا،پینا اور پہننا سب اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔اس میں اگر خودپسندی،فخر،ریا اور نمائش پیدا ہو جائے تو یہ گناہ اور اسراف ہے۔تو گھر کے کاموں میں وہ سب کام کر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔آپ اونٹ کو چارہ ڈالتے اور اسے باندھتے،گھر میں جھاڑو دیتے،بکری دوھتے،جوتے گانٹھتے،کپڑا پیوند کر لیتے،نوکر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیتے،وہ تھک جاتا تو آٹا پیس دیتے،بازار سے چیزیں خرید لاتے اور اس میں کبھی کوئی عار محسوس نہ کرتے اور خریدی ہوئی چیز اپنے ہاتھ میں پکڑ کر لے آتے یا کپڑے میں باندھ کر گھر لے آتے۔غنی،فقیر،بڑے اور چھوٹے سب سے مصافحہ کرتے اور نمازیوں میں سے جو سامنے آ جاتا چھوٹا یا بڑا،کالا یا گورا،آزاد یا غلام،ہر ایک کو سلام کہنے میں پہل کرتے۔[3]