اخلاقِ سیئہ
ظلم
مسلمان کسی پر ظلم نہیں کرتا،نہ اپنے آپ پر ظلم قبول کرتا ہے،یعنی نہ ہی اس سے کسی پر ظلم ہوتا ہے اور اگر اس پر کوئی ظلم وستم کرتا ہے تو وہ اسے بھی برداشت نہیں کرتا۔ظلم کی تین بنیادی اقسام ہیں اور تینوں کتاب و سنت کی رو سے حرام ہیں۔ارشاد ربانی ہے:﴿لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾’’نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘[4]
نیز ارشاد عالی ہے:﴿وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا﴾’’اور تم میں سے جو بھی ظلم کرے گا ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے۔‘‘[5]
نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ربِّ کائنات کا یہ ارشاد نقل فرمایا:
’یَا عِبَادِي!إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِي،وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُّحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا‘
’’اے میرے بندو!میں نے اپنے نفس پر ظلم کو حرام کیا ہے اور تمھارے ما بین بھی اسے حرام قرار دیا ہے،لہٰذا تم آپس میں ظلم نہ کرو۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اِتَّقُوا الظُّلْمَ،فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ‘
’’ظلم سے بچو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیوں کا باعث ہو گا۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِینَ‘’’جو ایک بالشت کے قدر ظلم کرے گا،اس پر سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔‘‘[3]
ایک جگہ فرمایا:’إِنَّ اللّٰہَ لَیُمْلِي لِلظَّالِمِ،فَإِذَا أَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ،ثُمَّ قَرَأَ:‘
’’اللہ تعالیٰ(پہلے تو)ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے،پھر جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں۔‘‘ پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾
’’اور ایسے ہی تیرے رب کی پکڑ ہے کہ جب وہ بستی کے ظالم باشندگان کو پکڑتا ہے تو اس کی گرفت سخت اور دردناک ہوتی ہے۔‘‘[4]
نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ارشاد فرمایا:’وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ،فَإِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ‘
’’اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے مابین کوئی حجاب نہیں ہے۔‘‘[5]
ظلم کی تین اقسام ہیں:
1: بندے کا رب کے بارے میں ظلم۔اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے مالک اور مربی کا انکار کر دیتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾’’اور کافر لوگ ہی ظالم ہیں۔‘‘[6]
اسی طرح انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت ترک کر کے یا اس کی عبادت کے ساتھ ساتھ غیر کی عبادت بھی کرنے لگ جائے تو یہ شرک اور بہت بڑا ظلم ہے۔ارشاد ربانی ہے:
﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾’’یقینا شرک بڑا ظلم ہے۔‘‘[1]
2: انسان،اللہ کی مخلوق اور انسانوں پر ظلم کرے۔ان کی عزت،جان او مال کو ناحق پامال کرے تو یہ ظلم کی دوسری قسم ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’مَنْ کَانَتْ لَہُ مَظْلَمَۃٌ لِّأَخِیہِ مِنْ عِرْضِہِ أَوْشَيْئٍ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَّا یَکُونَ دِینَارٌ وَّلَا دِرْھَمٌ،إِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِہِ،وَإِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہِ فَحُمِلَ عَلَیْہِ‘
’’جس نے اپنے کسی بھائی کی عزت کا یا کوئی اور حق دینا ہے تو وہ آج ہی اسے معاف کرالے،اس سے پہلے کہ جب درہم و دینار نہیں ہوں گے اور اگر اس کے پاس نیک عمل ہوں گے تو وہی بدلہ میں لیے جائیں گے اور اگر نیکیاں نہیں ہونگی تو حق دار کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ [2]
مزید فرمایا:((مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیئٍ مُّسْلِمٍ بِیَمِینِہِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ النَّارَ،وَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ،فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ:وَإِنْ کَانَ شَیْئًا یَّسِیرًا یَّارَسُولَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ:وَإِنْ کَانَ قَضِیبًا مِّنْ أَرَاکٍ))
’’جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق مارلیا،اللہ نے اس کے لیے جہنم واجب اور بہشت حرام کر دی ہے۔‘‘ایک شخص نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم!)چاہے وہ معمولی حق ہو۔فرمایا:’’چاہے پیلو کے درخت کی ایک ٹہنی ہی ہو۔‘‘[3]
نیز فرمایا:’لَا یَزَالُ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَۃٍ مِّنْ دِینِہِ مَالَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا‘ ’’مومن اپنے دین میں ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے،جب تک کہ وہ کسی کو ناجائز قتل نہ کر دے۔‘‘[4]
یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف نہیں کہ﴿وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾
’’انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔‘‘[5]
کیونکہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے اس ظلم سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ ان کے ظلم کا نقصان ان کی اپنی جانوں پر ہی ہوتا ہے۔اور فرمایا:
((کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہُ وَمَا لُہُ وَعِرْضُہُ))’’مسلمانوں پر ایک دوسرے کا خون،مال اور عزت حرام ہیں۔‘‘[1]
3:انسان کا اپنے آپ پر ظلم۔اور وہ یہ کہ وہ مختلف انداز کے جرائم اور برائیوں سے آلودہ ہوجائے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے۔ارشاد حق تعالیٰ ہے:﴿وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾’’اور انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔‘‘[2]
یعنی گناہ اور فحش کاری میں مبتلا انسان نے خباثت وتاریکی کو اپنے نفس میں جگہ دی ہے،جس کی وجہ سے وہ اللہ کی لعنت اور دوری کا مستحق بن گیا ہے اور یہی اپنے اوپر ظلم ہے۔