حسنِ خلق

جود و کرم

’’سخاوت‘‘مسلمان کی صفت اور ’’ کرم‘‘اس کی علامت ہے۔مومن کنجوس اور بخیل نہیں ہوتا،اس لیے کہ کنجوسی اور بخل دو مذموم صفتیں ہیں۔جو خباثت نفس اور دل کی تاریکی کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہیں اور مومن کا نفس و دل ایمان اور عمل کی وجہ سے پاک اور روشن ہوتا ہے،بنا بریں طہارت نفس اور دل کی روشنی،کنجوسی اور بخل کی ضد ہیں،لہٰذا مسلمان کنجوس اور بخیل نہیں ہوتا۔ کنجوسی دل کی ایک عام بیماری ہے،جس سے شاید ہی کوئی انسان بچ سکا ہو۔ہاں،مومن کو اللہ تعالیٰ ایمان اور نماز وزکاۃ جیسے اعمال کی وجہ سے اس گندی بیماری کے شر سے بچا لیتا ہے تاکہ اسے فلاح اور اخروی کامیابی کے لیے تیار کرے۔ارشاد ربانی ہے: ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا﴿١٩﴾إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا﴿٢٠﴾وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا﴿٢١﴾إِلَّا الْمُصَلِّينَ﴿٢٢﴾الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ﴿٢٣﴾وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ﴿٢٤﴾لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ ’’بے شک انسان بے صبرا پیدا کیا گیا ہے،جب اسے شر پہنچے تو جزع و فزع کرتا ہے اور خیر پہنچے تو نہ دینے والا ہوتا ہے مگر نماز گزار جو ہمیشہ نماز کا التزام رکھتے ہیں اور وہ لوگ کہ ان کے مالوں میں سوالی اور محروم لوگوں کا حق معلوم و مقرر ہے۔‘‘[2] اور ارشاد فرمایا:﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ ’’ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لو کہ اس کے ساتھ انھیں پاک اور ان کا تزکیہ کرتے رہو۔‘‘[3] نیز فرمان الٰہی ہے:﴿وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾’’اور جو اپنے نفسوں کی کنجوسی سے بچا لیے گئے،یقینا یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘[4] فضیلت و عظمت کی حامل عادات چونکہ ریاضت و تربیت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں،اس لیے مسلمان کی بھی کوشش یہی رہتی ہے کہ وہ ایسی ہی عادات اپنائے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے حاصل کرنے کی ترغیبات اور ان کی ضد کی ترہیبات پر نظر رکھتا ہے،چنانچہ سخاوت کے لیے وہ اپنے دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرامین مقدسہ کے تدبروتامل میں لگاتا ہے۔فرمان ربانی ہے: ﴿وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ﴾ ’’اور ہم نے جو روزی تمھیں دی ہے،اس میں سے خرچ کر لو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی ایک کو موت آئے اور وہ کہنے لگے کہ اے رب!مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کر لوں اور نیک لوگوں میں سے بن جاؤں۔‘‘[1] نیز ارشاد ہے:﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴿٥﴾وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ﴿٦﴾فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ﴿٧﴾وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ﴿٨﴾وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ﴿٩﴾فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴿١٠﴾وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ﴾ ’’تو جس نے(اللہ کی راہ میں مال)دیا اور پرہیز گاری اختیار کی اورنیک بات کو سچ جانا،اسے ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پروا بنا رہا اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا،اسے ہم سختی میں پہنچائیں گے اور جب وہ دوزخ کے گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔‘‘[2] اور فرمان حق تعالیٰ ہے:﴿وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِٰ﴾ ’’اور تمھیں کیا ہوا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے؟ حالانکہ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی ملکیت ہے۔‘‘[3] نیز ارشاد ہے:﴿وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ ’’اور جو مال تم خرچ کرو گے،تمھیں پورا پورا(اجر)دیا جائے گا،اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘[4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ اللّٰہَ جَوَّادٌ یُّحِبُّ الْجُودَ وَیُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ،وَیَکْرَہُ شَفَافَھَا‘ ’’بے شک اللہ سخی ہے اور سخاوت کو پسند کرتا ہے اور اچھے اخلاق کو پسند اور گھٹیا عادات کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘[5] ایک جگہ فرمایا:’لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ:رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلٰی ھَلَکَتِہِ فِي الْحَقِّ،وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فَھُوَ یَقْضِي بِھَا وَیُعَلِّمُھَا‘ ’’صرف دو آدمیوں کے ساتھ رشک کرنا چاہیے،ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے صحیح جگہوں پر خرچ کرتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے علم و حکمت سے نوازا ہے اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا اور تعلیم دیتا ہے۔‘‘[1] نیز فرمایا:’أَیُّکُمْ مَّالُ وَارِثِہِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَّالِہِ؟ قَالُوا:یَارَسُولَ اللّٰہِ!مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُہُ أَحَبُّ إِلَیْہِ،قَالَ:فَإِنَّ مَالَہُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِہِ مَا أَخَّرَ‘ ’’تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پسند ہو؟‘‘ لوگوں نے کہا:’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ہر کسی کو اپنا ہی مال پسند ہے‘‘۔تو آپ نے فرمایا:’’اس کا اپنا مال تو وہ ہے جو اس نے آگے کے لیے بھیج دیا ہے اور جو پیچھے چھوڑے جا رہا ہے وہ اس کے وارث کا مال ہے۔‘‘[2] نیز فرمان نبوی ہے:’اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ‘ ’’آگ سے بچو،اگرچہ کھجور کا ٹکڑاہی خیرات کر کے۔‘‘[3] مزید فرمایا:((مَا مِنْ یَّوْمٍ یُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِیہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُولُ أَحَدُھُمَا:اَللّٰھُمَّ!أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا،وَیَقُولُ الْآخَرُ:اَللّٰھُمَّ!أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا)) ’’ہر صبح دوفرشتے اترتے ہیں،ایک کہتا ہے:’’اے اللہ!خرچ کرنے والے کو اس کا عوض دے‘‘اور دوسرا کہتا ہے:’’اے اللہ!بخل و کنجوسی کرنے والے کو بربادی دے۔‘‘[4] نیز ارشاد عالی ہے:’ اِتَّقُوا الشُّحَّ،فَإِنَّ الشُّحَّ أَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ،حَمَلَھُمْ عَلٰی أَنْ سَفَکُوا دِمَائَ ھُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَھُمْ ‘ ’’بخل و کنجوسی سے بچو کیونکہ اس نے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔اس کی وجہ سے انھوں نے اپنے آدمیوں کےخون بہائے اور محارم کو حلال جانا۔‘‘[5] ایک دن آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جو بکری ذبح کی تھی،اس کا کچھ حصہ باقی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:’مَا بَقِيَ مِنْھَا إِلَّا کَتِفُھَا‘ ’’سب ختم ہو گیا ہے،صرف کندھے کا گوشت باقی ہے۔‘‘ اس پر آپ نے فرمایا:(آپ یہ الفاظ نہ کہو)بلکہ یہ کہو:’بَقِيَ کُلُّھَا غَیْرَ کَتِفِھَا‘ ’’کندھے کے سوا سب باقی ہے۔‘‘[6] یعنی جو صدقہ ہوچکا ہے حقیقت میں تو وہی باقی ہے۔(جس کا اجر قیامت کے دن ملے گا)ایک جگہ ارشاد فرمایا: ’مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ،وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ،وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِینِہِ،ثُمَّ یُرَبِّیھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّي أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ‘ ’’جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر خیرات کی۔اور اللہ حلال ہی قبول کرتا ہے۔اسے اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور پھر خیرات کرنے والے کے لیے بڑھاتا رہتا ہے۔جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے کو پالتا ہے۔یہاں تک کہ وہ(صدقہ یعنی اس کا اجر)پہاڑ جتنا ہو جاتا ہے۔‘‘[1] سخاوت کے مظاہر: ٭ سائل کو دینے والا احسان اور ایذا رسانی کے بغیر دیتا ہے۔ ٭ دینے والا سائل کو دیکھ کر فرحت محسوس کرتا ہے اور عطیہ دے کر خوش ہوتا ہے۔ ٭ فضول خرچی اور کنجوسی دونوں سے احتراز کرتا ہے اور خرچ کرتا ہے۔ ٭ جس کے پاس زیادہ ہے وہ زیادہ دیتا ہے اور جس کے پاس تھوڑا ہے وہ کم دیتا ہے مگر دل کی خوشی،انبساط اور اچھے انداز سے دیتا ہے۔ سخاوت کی چند مثالیں: 1: مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک لاکھ(100,00,0)درہم بھیجے،ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں خیرات کرنا شروع کر دیا اور شام کو اپنی نوکرانی سے فرمانے لگیں:میرے لیے افطاری لاؤ۔وہ روٹی اور زیتون لائی اور کہنے لگی:اس مال میں سے جو آج آپ نے خرچ کیا ہے،ایک درہم کا گوشت ہی خرید لیتیں۔تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:اگر آپ یاد دلاتیں تو خرید لیتے۔[2] 2: مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خالد بن عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ سے اس کا گھر،جو مکہ کے بازار میں تھا،ستر ہزار درہم میں خرید لیا،رات کے وقت عبداللہ نے خالد کے اہل کے رونے کی آواز سنی۔سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ مکان کی فروخت پر افسوس ہو رہا ہے۔تو اس پر عبداللہ بن عامر نے اپنے غلام کے ذریعے کہلا بھیجا:مکان بھی تم رکھو اور دیے گئے درہم بھی تمھارے ہو گئے۔[3] 3: بیان کیا جاتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے مرض الموت میں وصیت کی کہ مجھے فلاں شخص غسل دے۔اسے غسل دینے کے لیے بلایا گیا تو اس نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی وہ کتاب دکھاؤ،جس پر وہ اپنی ضروری یاد داشتیں لکھا کرتے تھے۔وہ اسے دی گئی،دیکھا تو امام شافعی رحمہ اللہ کے قرضہ جات لکھے تھے،جو انھوں نے دینے تھے۔اس آدمی نے وہ لکھ لیے اور کہا کہ میں ادائیگی کر دوں گا اور یہی میرا انھیں غسل دینا ہے اور یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ 4: مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہے تھے اور مسلمانوں پر تنگی کا وقت تھا،اور اسی وجہ سے اس فوج کو ’’جیش العسرہ‘‘(تنگی کا لشکر)بھی کہتے ہیں۔اس فوج کے لیے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے دس ہزار دینار،تین سو اونٹ پورے سازو سامان سمیت اور پچاس گھوڑے دیے تھے۔(بعد میں مزید صدقہ کیا تو کل مقدار نو سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تک جا پہنچی)اس طرح(تقریبًا)آدھی فوج کے لیے تو یہی سامان ہو گیا تھا۔[1]