حسنِ خلق
شرم وحیا
’’حیا‘‘ مسلمان کی صفت ہے،وہ باحیا ہوتا ہے اور عفت اس کا زیور ہے۔حیا ایمان کا ایک جزو ہے اور ایمان مسلمان کا عقیدہ اور اس کی زندگی کی درستی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’اَلإِْیمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَّ سِتُّونَ شُعْبَۃً،فَأَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَأَدْنَاھَا إِمَاطَۃُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیقِ،وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الإِْیمَانِ‘
’’ایمان کی ستر یا ساٹھ سے اوپر شاخیں ہیں،افضل شاخ ’’لا الہ الا اللہ‘‘اور کم ترشاخ،راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔‘‘[1]
اور فرمایا:’اَلْحَیَائُ وَالإِْیمَانُ قُرَنَائُ جَمِیعًا،فَإذَا رُفِعَ أَحَدُھُمَا رُفِعَ الْآخَرُ‘ ’’حیا اور ایمان دو ساتھی ہیں،جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔‘‘[2]
’’حیا‘‘ایمان کا جزو ہے۔اس میں بنیاد یہ ہے کہ دونوں خیرکے داعی اور شر سے انسان کو دور کرتے ہیں،ایمان اطاعت کے کام کرنے اور گناہ چھوڑنے پر آمادہ کرتا ہے اور حیا منعم کے انعامات کا شکریہ ادا کرنے میں کمی اور صاحب حق کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے سے روکتا ہے،باحیا انسان گندے کام نہیں کرتا اور بُرے الفاظ نہیں بولتا،اس لیے کہ وہ مذمت اور ملامت سے ڈرتا ہے،اسی بنیاد پر حیا خیر ہی خیر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’اَلْحَیَائُ لَا یَأْتِي إِلَّا بِخَیْرٍ‘ ’’حیا خیر ہی لاتا ہے۔‘‘[1]
مزید فرمایا:’اَلْحَیَائُ کُلُّہٗ خَیْرٌ‘ ’’حیا پورے کا پورا خیر و بھلائی ہے۔‘‘[2]
حیا کی ضد بے حیائی ہے جو قول وفعل میں برائی کا نام ہے جس سے کلام میں درشتی پیدا ہوتی ہے۔مسلمان سخت کلام،برا،سنگدل اور خشک مزاج نہیں ہوتا،اس لیے کہ یہ جہنمیوں کی صفات ہیں جبکہ مسلمان اللہ کے فضل سے اہل جنت میں سے ہے۔بنا بریں اس کی عادات میں سختی اور بدمزاجی نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس پر شاہد ہے:
’اَلْحَیَائُ مِنَ الإِْیمَانِ،وَالإِْیمَانُ فِي الْجَنَّۃِ،وَالْبَذَائُ مِنَ الْجَفَائِ،وَالْجَفَائُ فِي النَّارِ‘
’’حیا ایمان سے ہے اور ایمان بہشت میں لے جائے گا اور بے حیائی جفا سے ہے اور جفا جہنم کا موجب ہے۔‘‘[3]
حیا میں مسلمان کے لیے بہترین نمونہ اولین وآخرین کے سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے۔[4]
صحیح بخاری میں ہے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند چیز دیکھتے تو ہم اس کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں پاتے تھے۔‘‘[5]
اس صفت کی حفاظت اور اس کے پرچار میں مسلمان کی ہر وقت کوشش وسعی قائم رہتی ہے اور وہ لوگوں کی خیر ونیکی کی طرف رہنمائی کرتا رہتا ہے،اس لیے کہ حیا ایمان کا جز ہے اور ایمان فضائل اور نیکیوں کا مجموعہ اور عنصر ہے۔صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی کو وعظ کر رہا تھا کہ تجھے اتنا حیا دار نہیں ہونا چاہیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’دَعْہُ،فَإِنَّ الْحَیَائَ مِنَ الإِْیمَانِ‘ ’’اسے رہنے دے،حیا ایمان کا جز ہے۔‘‘[6]
اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کو حیا کی بقا کی تلقین فرمائی اور اسے ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے،خواہ اسے اپنے بعض حقوق سے محروم ہی کیوں نہ ہونا پڑے کیونکہ بعض حقوق سے دستبردار ہو جانا بے حیا بننے سے کہیں بہتر ہے،اس لیے کہ حیا ایمان کا جزو،اعلیٰ انسانی اقدار کی نشانی اور نیکیوں کا سر چشمہ ہے۔
اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے جس کا بیٹا شہید ہو گیا تو وہ نقاب اوڑھ کر اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے آئی تو لوگوں نے اس کے اس حالت میں نقاب اوڑھنے کو حیرت سے دیکھا تو کہنے لگی:
’أَنْ أُرْزَأَ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَیَائِي‘
’’میں اپنے بچے کی مصیبت میں مبتلا ہوں اب بے حیائی کی مصیبت میں ہرگز گرفتار نہیں ہوں گی۔‘‘[1]
ہاں ’’باحیا‘‘انسان کو کلمہ ٔ حق کہنے،علم حاصل کرنے،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے رکنا نہیں چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ایک بار کسی کی سفارش کی تو آپ کے شرم و حیا نے آپ کو ناراضی کے انداز میں اسامہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمانے سے نہیں روکا:
’أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ؟(یَا أُسَامَۃُ!):وَأَیْمُ اللّٰہِ!لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا‘
’’اسامہ!اللہ کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو۔:اللہ کی قسم!اگرفاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔‘‘[2]
اور شرم و حیا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ مسئلہ پوچھنے میں بھی مانع نہیں ہوئی۔کہتی ہیں:اے اللہ کے رسول!بے شک اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:’’ہاں!اگر وہ پانی دیکھتی ہے۔‘‘[3] یہاں آپ نے بھی جواب دینے میں شرم محسوس نہیں کی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک بار خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور مہر کے زیادہ ہونے پر اعتراض کیا تو ایک عورت کہنے لگی:عمر!جو چیز اللہ ہمیں دیتا ہے تم کیوں روکتے ہو؟ اللہ کا یہ فرمان ہے:﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا﴾’’تم ان میں سے کسی کو بہت مال دے چکے ہو تو اس سے کچھ(واپس)نہ لو۔‘‘[4]
دیکھیے!شرم وحیا نے عورت کو عورتوں کے حقوق کے دفاع سے نہیں روکا اور عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی قسم کی خفگی محسوس کیے بغیر معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں:عمر!تم سے تو سب لوگ زیادہ فقیہ ہیں۔[5]
ایک اور موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور لوگوں کو بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کہنےلگا:ہم آپ کی بات سنتے ہیں نہ اطاعت کرتے ہیں کیونکہ آپ نے دوکپڑے بنوالیے اور ہمیں ایک لباس کا کپڑا ملا۔توعمر رضی اللہ عنہ نے اونچی آواز سے اپنے بیٹے کو بلایا،بیٹا حاضر ہوا تو اس نے حقیقت حال واضح کی کہ میں نے اپنے حصے کا کپڑا انھیں دے دیا ہے۔تب ان کے دو کپڑے تیار ہوئے ہیں۔اس شخص نے کہا:اب فرمایئے ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔[1] نہ تو شرم کی وجہ سے وہ شخص ہی خاموش رہا اور نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعتراف میں شرم محسوس کی۔
مسلمان،مخلوق کے سامنے شرم وحیا کرتا ہے،اس لیے ان کے سامنے ننگا نہیں ہوتا اور نہ ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے اور نہ کسی کے احسان کا انکاری ہوتا ہے اور نہ برے انداز سے کسی کا سامنا کرتا ہے۔اسی طرح اپنے خالق کے آگے بھی وہ باحیا ہے کہ اس کی اطاعت وفرماں برداری اور نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں کمی نہیں کرتا،اس لیے کہ وہ اللہ کی قدرت کاملہ اور علم تام کا اقراری ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول پر ہرصاحبِ ایمان کا عمل ہے:
((اِسْتَحْیُوا مِنَ اللّٰہِ حَقَّ الْحَیَائِ،فَلْیَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعٰی،وَالْبَطْنَ وَمَا حَوٰی،وَلْیَذْکُرِ الْمَوْتَ وَالْبَلَائَ))
’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بارے میں پوری طرح باحیا رہو:انسان سر اور جو اس میں ہے،پیٹ اور جو اس میں ہے،کی حفاظت کرے(کوئی ناجائز چیز ان میں نہ آنے پائے)اور موت اور آزمائش کو یاد رکھے۔‘‘[2]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ یُّسْتَحْیَا مِنْہُ مِنَ النَّاسِ))’’لوگوں سے زیادہ اللہ کا حق ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔‘‘[3]