حسنِ خلق

شفقت ورحمت

مسلمان رحمدل ہوتا ہے اور رحم کرنا اس کی عادت ہے کہ یہ صفت نفس وروح کی پاکیزگی اور صفائی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے اور مسلمان نیک کام کرنے اور شرو مفاسد سے دور رہنے کی وجہ سے نفس وروح کی طہارت وصفائی کا حامل ہوتا ہے اور ایسا انسان کبھی بھی صفت رحمت سے عاری نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی رحمت و شفقت کو پسند کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہتا ہے بلکہ اس کا ہمہ وقت داعی ہوتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ﴿١٧﴾أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ﴾ ’’پھر وہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے۔یہی لوگ دائیں جانب(سعادت)والے ہیں۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’إِنَّمَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَائَ‘ ’’اللہ اپنے بندوں میں سے ان پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔‘‘[4] نیز فرمایا:’اِرْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِي السَّمَائِ‘ ’’تم زمین والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘[5] نیز ارشاد ہے:’مَنْ لَّا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ‘ ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘[1] اور یہ بھی فرمان نبوی ہے:’لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَۃُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ‘ ’’بد بخت سے ہی رحمت چھینی جاتی ہے۔‘‘[2] اور وہ آپ کے اس فرمان کا مصداق ہوتا ہے: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِینَ فِي تَوَادِّھِمْ وَتَراحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھَرِ وَالْحُمّٰی)) ’’باہمی محبت،ایک دوسرے پر رحم اور نرمی کرنے میں ایمانداروں کی مثال ایک جسم کی ہے کہ اگر اس کا ایک عضو بیمار ہو جائے تو سارا جسم بیداری اور بخار محسوس کرتا ہے۔‘‘[3] دلی رقت اور نفسانی شفقت کو،جو عفو ودرگزر اور احسان کو شامل ہو،رحمت کہتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ یہ ہمیشہ نفسانی جذبہ ہی رہے جس کا خارج میں کوئی اثر نہ ہو بلکہ یہ ایسی حقیقت ہے جس کے خارجی اثرات بھی ہوتے ہیں،جیسا کہ لغزش والے سے درگزر کرنا،گناہ گار کو معاف کر دینا،عاجز اور بے بس کی مدد کرنا،کمزور سے تعاون کرنا بھوکے کو کھانا کھلانا،ننگے کو لباس مہیا کرنا،مریض اور بیمار کو علاج کی سہولت مہیا کرنا اور غمگین کے ساتھ ہمدردی وغمخواری وغیرہ یہ سب رحمت کے آثار ہیں۔ شفقت و رحمت کے مظاہر: رحمت کے آثار جو ہمارے مشاہدے اور دیکھنے میں آسکتے ہیں،اس کے چند مظاہر ملاحظہ فرمایئے: 1: امام بخاری رحمہ اللہ(اپنی سند کے ساتھ)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف القین رضی اللہ عنہ(لوھار)کے گھر گئے۔جو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ فرزند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آیا(دایہ)کے شوہر تھے۔آپ نے بچے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور بوسے دیے۔اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ ہم پھر وہاں گئے جبکہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی جاں کنی کا وقت تھا۔آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کی:اور آپ بھی اے اللہ کے رسول!(آنسو بہاتے ہیں۔)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے ابن عوف!یہ رحمت ہے۔‘‘پھر فرمایا:’’آنکھ آنسو بہاتی ہے،دل غمگین ہے اور ہم وہی کہیں گے جس پر ہمارا رب راضی ہوتا ہے اور اے ابراہیم!ہم تیرے جدا ہونے پر بہت غمگین ہیں۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے فرزند کو دیکھنے جانا جبکہ وہ دودھ پلانے والی کے پاس تھا،اسے بوسے دینا اور چومنا اور پھر جاں کنی کی حالت میں اس کی عیادت کے لیے دوبارہ جانا اور غم کے آنسو بہانا،یہ سب کچھ دل میں موجزن رحمت کا مظہر تھا۔ 2: امام بخاری رحمہ اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایک شخص کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی،وہ کنوئیں میں نیچے اترا اور پانی پیا،باہر نکلا تو ایک کتا دیکھا جو پیاس کی وجہ سے ہانپ رہا تھا اور گیلی مٹی کھانے کی کوشش کر رہا تھا۔اس نے دل میں سوچا کہ یہ بھی میری طرح پیاسا ہے۔تو اس نے پانی سے اپنا موزہ بھرا،منہ سے پکڑا اور کنویں سے باہر آکر کتے کو پانی پلایا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر کی اور اس کی مغفرت فرما دی۔‘‘ لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول!جانوروں کے ساتھ ہمدردی میں بھی ہمیں ثواب ملتا ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہر زندہ جگر والی چیز(کے ساتھ حسن سلوک)میں اللہ کے ہاں اجر ہے۔‘‘[2] اس آدمی کا کنویں میں اترنا،پانی لانا اور پیاسے کتے کو پلانا،یہ سب دل میں موجود رحمت کے مظاہر ہیں،ورنہ وہ ایسا نہ کرتا۔ اس کے برعکس امام بخاری رحمہ اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور واقعہ لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایک عورت کو صرف اس لیے عذاب ہوا کہ اس نے بلی کو باندھا جس کی وجہ سے وہ بھوکی پیاسی مر گئی۔(اللہ کی طرف سے)اسے کہا گیا کہ تو نے اسے باندھ کر نہ اسے کھانا دیا نہ پانی پلایا اور نہ چھوڑا کہ یہ خود زمینی جانور کھا کر گزارہ کرتی۔‘‘[3] اس عورت کا یہ طرز عمل اس کے دل کی سختی اور رحمت کے فقدان کی وجہ سے تھا اور رحمت سے وہی عاری ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو۔ 3: امام بخاری رحمہ اللہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں اس ارادے سے نماز شروع کرتا ہوں کہ لمبی پڑھوں گا مگر بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو بچے کی ماں کے احساس کی و جہ سے مختصر کر دیتا ہوں جو اس کے رونے پر اسے ہوتا ہے۔‘‘[4] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لمبی نماز پڑھنے کے ارادے کو ترک کرنا اور ماں کا بچے کے رونے کی وجہ سے بے چین ہونا،یہ سب اس رحمت کی وجہ سے ہے جو اللہ نے اپنے رحم کرنے والے بندوں کے دلوں میں ودیعت کی ہے۔ 4: بیان کیا جاتا ہے کہ زین العابدین علی بن حسین رحمہم اللہ مسجد کی طرف جارہے تھے کہ انھیں ایک شخص نے گالی دی،خدام اسے مارنے کے لیے دوڑے تو انھوں نے انھیں جذبہ’ ’ترحم‘‘کے تحت منع کر دیا اور فرمایا:’’صاحب میں تو اس سے بھی زیادہ ہوں جتنا تو کہہ رہا ہے اور میری جو باتیں تو نہیں جانتا،وہ ان سے زیادہ ہیں جو تو جانتا ہے۔اگر تجھے ان سے کوئی مطلب ہے تو بیان کردوں۔‘‘چنانچہ وہ آدمی شرمندہ اور نادم ہوا۔زین العابدین رحمہم اللہ نے اپنی قمیض اس کواتار کر دے دی اور ایک ہزار درہم نقد بھی دیے۔ یہ معاف کرنا اور یہ احسان سے نوازنا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کے دل میں رحمت ومہربانی کی وجہ ہی سے تو تھا۔