حسنِ خلق

احسان و بھلائی

احسان پر مسلمان کی نظر صرف اس انداز کی نہیں کہ یہ ایک اچھی عادت ہے اور اسے اپنانا بہتر ہے بلکہ وہ اسے اپنے عقیدہ کا ایک حصہ اور اسلام کا بڑا جز سمجھتا ہے،اس لیے کہ دین اسلام کی بنیادیں تین ہیں:ایمان،اسلام اور احسان۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ جبریل میں جبرائیل علیہ السلام کے جواب میں بیان فرمایا اور آخر میں فرمایا: ’ھٰذَا جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ لِیُعَلِّمَکُمْ دِینَکُمْ‘ ’’یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمھیں تمھارا دین سکھانے آئے تھے۔‘‘[4] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں باتوں کو دین کا نام دیا ہے۔اور قرآن پاک میں بھی اللہ عزوجل نے کئی مواقع پر احسان کا حکم دیا۔ارشاد ہے:﴿وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾’’اور احسان کرو،بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘[1] نیز ارشاد ربانی ہے:﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘[2] نیز حکم حق تعالیٰ ہے:﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾’’اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘[3] اور فرمان الٰہی ہے: ﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور رشتہ داروں،یتیموں،مساکین،قرابت دار ہمسائے،دور کے ہمسائے،پہلو کے ساتھی،مسافر اور اپنے مملوک غلاموں کے ساتھ(بھی احسان کرو۔)‘‘[4] اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الإِْحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ،فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ،وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ،وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ فَلْیُرِحْ ذَبِیحَتَہُ‘ ’’بے شک اللہ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا فرض کر دیا ہے،جب تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اورجب ذبح کرو تو ذبح کرنے کا اچھا انداز اپناؤ اور چھری تیز کرو اور ذبیحہ کو راحت دو۔‘‘[5] عبادات میں احسان کا مطلب یہ ہے کہ انھیں صحیح طریقہ سے ادا کیا جائے،خواہ وہ نماز،روزہ،اور حج وغیرہ میں سے کوئی بھی ہو،یعنی ادائیگی میں شروط،ارکان،سنن وآداب کا پورا پورا لحاظ کیا جائے اور اس کی تکمیل یوں ہو گی کہ عبادت کی ادائیگی کے وقت انسان اللہ کے مراقبہ میں پوری طرح مستغرق ہو جائے۔گویا کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ شعور ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور ا س کے احوال پر مطلع ہے۔اس طرح وہ مطلوبہ طریقے سے اور مکمل طور پر عبادت کی ادائیگی کر سکے گا۔یہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے:((اَلإِْحْسَانُ۔أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ،فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ)) ’’احسان یہ ہے کہ تو اپنے رب کی عبادت اس انداز میں کرے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے،اگر ایسے نہیں تو پھر یہ(تصور کر)کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘[6] معاملات میں والدین کے ساتھ احسان یہ ہے:ان کی فرماں برداری کرنا،ان کے لیے خیر مہیا کرنا،ان سے تکلیف کو دور کرنا اور ان کے حق میں دعا و استغفار کرنا،ان کے وعدے پورے کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت واکرام کرنا۔ دوسرے قرابت داروں کے لیے احسان میں یہ پہلو مدنظر رہے کہ ان سے حسن سلوک،نرمی،مہربانی اور اچھا برتاؤ کیا جائے،برائی اورقبیح قول وفعل سے اجتناب کیا جائے۔ یتیموں کے لیے احسان میں ان کے اموال کی حفاظت کرنا،ان کے حقوق کا تحفظ،انھیں آداب سکھانا اور اچھی تربیت کرنا داخل ہے۔اسی طرح انھیں ایذا نہ دی جائے اور ان پر قہر و ظلم روا نہ رکھا جائے بلکہ ان کے سر پر دست شفقت رکھا جائے۔ مساکین کے لیے احسان یہ ہے کہ ان کی بھوک دور کی جائے،ان کولباس اس انداز سے مہیا کیا جائے کہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہونے پائے۔انھیں حقیر نہ سمجھا جائے،معیوب نہ جانا جائے اور انھیں برے الفاظ اور ناپسند افعال کا ہدف نہ بنایا جائے۔ مسافر کے لیے احسان میں اس کی ضرورت پوری کرنا،بھوک دور کرنا،اس کے مال وعزت کی حفاظت کرنا،راستہ پوچھے تو بتانا اور بھٹک جائے تو راہ راست دکھانا داخل ہے۔ خادم کے لیے احسان اس طرح ہے کہ پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ادا کی جائے۔جو کام اس کے ذمہ نہیں،وہ اس سے نہ لیا جائے،اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینا،اس کی عزت اور شخصیت کا احترام کرنا،اگر گھر کا خادم ہو تو اسے گھر والوں جیسا کھانا کھلانا اور اسے انھی کے معیار کا لباس دینا۔ عام لوگوں کے لیے احسان میں یہ باتیں داخل ہیں کہ ان کے ساتھ گفتگو میں نرمی،لین دین میں اچھا انداز،امربالمعروف،نہی عن المنکر کا اہتمام کرنا،بھٹک جائے تو راستہ بتانا،جاہل ہے تو تعلیم دینا،انھیں انصاف مہیا کرنا،ان کے حقوق کا اعتراف،ان سے تکلیف اور ایذا دور کرنا اور کوئی ایسا کام نہ کرنا جو عام لوگوں کے لیے نقصان دہ اور ایذا کا باعث بن جائے۔ حیوان کے لیے احسان یہ ہے کہ بھوکا ہے تو اسے چارہ مہیا کرے،بیمار ہو جائے تو علاج کرے،طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لے،اس پر اتنا بوجھ نہ لادے جسے وہ برداشت نہ کر سکے،کام لینے میں اس سے نرم رویہ اپنائے اور تھک جائے تو اسے آرام کرنے کا موقع دے۔ بدنی کاموں میں احسان یہ ہے کہ کام عمدہ اور مضبوط ہو اور اس میں دھوکا وخیانت نہ ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جو ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘[1] احسان کے چند مظاہر: 1: احد کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت توڑ دیے،چہرہ زخمی کر دیا،آپ کے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا اور ان کا مثلہ کیا۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے مشرکین کے لیے بددعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا: ’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُونَ‘ اے اللہ!میری قوم کی مغفرت فرما،یہ لوگ نہیں جانتے۔[1] 2: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن اپنی لونڈی سے کہا:’’میں سونا چاہتا ہوں تم مجھے ہوا دو۔‘‘ چنانچہ لونڈی نے ہوا دی تو عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ سو گئے۔لونڈی پہ جب نیند کا غلبہ طاری ہوا تو وہ بھی سو گئی۔عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جاگے تو پنکھا پکڑ کر اسے ہوا دینے لگے،جب وہ جاگی اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو ہوا دیتے دیکھا تو گھبرا گئی۔خلیفۂ اسلام نے فرمایا:کوئی حرج نہیں تو بھی انسان ہے،گرمی سے متاثر ہوتی ہے تونے مجھے ہوا دی ہے،اگر میں نے تجھے ہوا دے دی ہے تو کیا ہوا؟[2] 3: ایک زر خرید غلام پر ایک نیک آدمی ناراض ہو گیا اور انتقام کا ارادہ کیا،غلام نے کہا:اللہ غصہ پی جانے والوں کی تعریف کرتا ہے۔نیک آدمی نے کہا:میں بھی غصہ پی گیا۔غلام نے کہا:اللہ نے انسانوں کو معاف کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔اس شخص نے کہا:میں نے بھی معاف کر دیا ہے۔پھر غلام نے کہا:اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔تو اس صالح شخص نے فرمایا:جا میں نے تجھے اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا ہے۔[3]