حسنِ خلق

عدل و اعتدال

عدل: مسلمان کے نقطۂ نظر میں عدل سب سے زیادہ ضروری اور اہم ہے۔اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کا حکم بایں الفاظ دیا ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ﴾’’بے شک اللہ عدل،احسان اور رشتہ داروں کو(کچھ)دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘[1] نیز انصاف پسندوں کے لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی محبت کی خوشخبری دی ہے۔ارشاد ہوتا ہے:﴿وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ ’’اور انصاف کرو،بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘[2] پھر صرف احکام ہی میں عدل وانصاف کا حکم نہیں دیا بلکہ کلام وگفتگو میں بھی عدل ملحوظ رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا: ﴿وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ﴾ ’’اور جب بات کہو تو انصاف کرو،چاہے وہ رشتہ دار ہی(کے خلاف)ہو۔‘‘[3] اور فرمایا:﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ ’’یقینا اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو پہنچا دو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کا فیصلہ کرو۔‘‘[4] بنا بریں مسلمان قول وفعل اور فیصلہ کرنے میں انصاف کو تلاش کرتا ہے،یہ اس کی طبعی صفت ہے جو کسی صورت اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔وہ جو بات کہتا ہے اور جو کام کرتا ہے،عدل وانصاف پر مبنی ہوتا ہے۔کسی پر ظلم وزیادتی سے بہت دور رہتا ہے،اس کی انصاف پسندی کو ہوائے نفس اور دنیا کی کوئی خواہش وشہوت متزلزل نہیں کر سکتی اور اسی وجہ سے وہ اللہ کی محبت،رضا،اعزازات اور انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کہا ہے:’’وہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کے ہاں ان کے اعزاز واکرام کا پتہ دیا ہے،چنانچہ فرمایا: ’إِنَّ الْمُقْسِطِینَ عِنْدَ اللّٰہِ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُّورٍ:الَّذِینَ یَعْدِلُونَ فِي حُکْمِھِمْ وَأَھْلِیھِمْ وَمَا وَلُوا‘ ’’بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر ہوں گے:وہ جو اپنے فیصلہ جات،اہل وعیال اور جو کچھ ان کی حکمرانی(اور ذمہ داری)میں ہو،اس میں انصاف کرتے ہیں۔‘‘[1] اور فرمایا:’سَبْعَۃٌ یُّظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِي ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ:اَلإِْمَامُ الْعَادِلُ،وَشَابٌّ نَّشَأَفِي عِبَادَۃِ رَبِّہٖ،وَرَجُلٌ قَلْبُہٗ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ،وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلٰی ذٰلِکَ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ،وَرَجُلٌ طَلَبَتْہُ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَّجَمَالٍ،فَقَالَ:إِنِّي أَخَافُ اللّٰہَ،وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفٰی حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ یَمِینُہٗ،وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ‘ ’’سات طرح کے انسانوں کو(قیامت کے دن)اللہ اپنے سایہ میں جگہ دے گا،جبکہ اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا،امام انصاف کرنے والا،وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں جوانی گزار رہا ہے،وہ مرد جس کا دل مساجد سے لگا ہوا ہے،وہ دو مرد جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں،اکٹھے ہوں یا جدا اسی محبت پر قائم ہیں،ایک وہ مرد جسے حسب ونسب والی خوبصورت عورت نے دعوت(گناہ)دی اور وہ اللہ کے خوف کی وجہ سے باز رہتا ہے،ایک وہ شخص جو چھپا کر خیرات کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں چلتا کہ دائیں نے کیا خرچ کیا ہے اور ایک وہ انسان جو تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے روتا ہے۔‘‘[2] عدل کے مظاہر: عدل کے بہت سے مظہر ہیں جن میں مسلمان نمایاں ہوتا ہے،مثلاً: 1: اللہ کے ساتھ عدل،یعنی اس کی عبادت وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے،اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی سے بچا جائے،اسے یاد رکھا جائے اور بھلایا نہ جائے،اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی کفران وناشکری سے اجتناب کیا جائے۔ 2: لوگوں کے فیصلے کرنے میں انصاف،یعنی ہر حق والے کو اس کا حق ملے اور اس کی داد رسی ہو۔ 3: بیویوں اور اولاد میں انصاف،یعنی ان میں برابری کی جائے اور کسی ایک کے ساتھ دوسرے پر برتری اور ایثار کا سلوک روا نہ رکھا جائے۔ 4: بات میں عدل،یعنی جھوٹ نہ بولا جائے،کذب اور باطل سے احتراز کیا جائے۔ 5: عقائد ونظریات میں عدل،یعنی حق اور سچائی کو تسلیم کیا جائے،خلاف حقیقت اور خلاف واقع باتوں کو دل میں جگہ نہ دی جائے۔ عدل و انصاف کے ثمرات: فیصلہ میں انصاف کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ نفوس میں اس سے اطمینان و سکون پھیلتا ہے،چنانچہ مروی ہے کہ قیصر’’بادشاہ روم‘‘نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا ایک قاصد بھیجا۔وہ مدینہ میں آیا تو پوچھا:تمھارا بادشاہ کہاں ہے۔لوگوں نے کہا ہمارا بادشاہ نہیں ہے بلکہ ہمارا تو امیر ہے اور وہ شہر سے باہر گیا ہوا ہے،چنانچہ وہ شخص تلاش میں نکل کھڑا ہوا،دیکھتا ہے کہ مسلمانوں کا امیر ریت پر درہ سرہانے رکھ کر سویا ہوا ہے۔درہ چھوٹی سی لاٹھی تھی،جسے وہ ہر وقت اپنے پاس رکھتے اور نہی عن المنکر میں اسے استعمال کرتے تھے۔قاصد نے دیکھا تو اس کے دل پر رقت طاری ہوگئی اور کہنے لگا:یہ شخص کہ دنیا کے بادشاہ جس سے کانپ رہے ہیں،اس اطمینان سے اکیلا سویا ہوا ہے۔عمر!تم نے انصاف کیا،اس لیے تم سکون اور اطمینان میں ہواور دنیا کے بادشاہ ظالم ہیں،اس لیے وہ خائف ہیں اور ان کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔[1] اعتدال: میانہ روی،عدل وانصاف کی نسبت عام ہے اور مسلمان کی زندگی کے تمام کاموں میں اس کی کارفرمائی ہے۔اعتدال(میانہ روی)افراط وتفریط کا درمیانی راستہ ہے اور افراط وتفریط دونوں مذموم صفتیں ہیں نہ افراط ٹھیک ہے اور نہ تفریط۔عبادات میں اعتدال یہ ہے کہ غلو وشدت سے خالی ہوں اور یہ بھی نہ ہو کہ عبادت کی کوئی اہمیت ہی ذہن وفکر میں نہ ہو،جسے اہمال وتفریط(انتہائی کوتاہی وکمی)کہہ سکتے ہیں۔ خرچ میں اعتدال اس طرح ہے کہ فضول خرچی نہ ہو اور نہ کنجوسی،اسراف وبخل کے مابین کی حالت درست ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا﴾ ’’اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی بلکہ ان کے درمیان اعتدال ہوتا ہے۔‘‘[2] لباس میں میانہ روی یہ ہے کہ وہ نہ تو فخرو تکبر کے لیے ہو اور نہ کھردرا اور بہت پیوند لگا ہوا بھدا ہو۔چال میں اعتدال یہ ہے کہ متکبرانہ نہ ہو اور نہ انتہائی مسکینی اور ذلت کے رنگ میں۔حقیقت میں اعتدال ہر میدان میں افراط وتفریط کے مابین ایک درمیانی حالت ہے۔ اعتدال استقامت کی طرح انسان کے لیے بہت بڑی فضیلت اور کردار کی بلندی کی علامت ہے۔اس کی بدولت اس کے حامل کو اللہ کی حدود پر ٹھہراؤ حاصل ہوتا ہے اور وہ فرائض کی ادائیگی میں سستی اور کمی سے محفوظ رہتا ہے اور عبادت کے کسی جزو میں افراط کا شکار بھی نہیں ہوتا۔ اعتدال سے’’وصف عفت‘‘کو جلا ملتی ہے،جس کے نتیجے میں مسلمان حلال پر اکتفا اور حرام سے اجتناب کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔میانہ روی انسان کے لیے کتنے شرف وفخر کی بات ہے،حق تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا﴾ ’’اور اگر یہ لوگ سیدھے راستہ پر چلتے توہم انھیں بہت پانی پلاتے۔‘‘ [1] اور فرمایا:﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴿١٣﴾أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا:’’ہمارا رب اللہ ہے‘‘پھر(اس پر)سیدھے رہے تو انھیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔یہی لوگ بہشت والے ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(یہ)ان عملوں کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘[2]