نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

ظہار کا بیان

٭ ظہار کی تعریف: مرد اپنی بیوی کو کہے:تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ(پشت)کی طرح ہے ’’ظہار‘‘ کہلاتا ہے۔ ٭ ظہار کا حکم: ظہار کرنا حرام ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو منکربات اور جھوٹ قرار دیا ہے اور یہ دونوں حرام ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ﴾ ’’اور بے شک یہ لوگ ایک غلط بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا،نہایت بخشنے والا ہے۔‘‘[2] ٭ ظہار کے احکام و مسائل: 1: جمہور علماء کے نزدیک’ ’ظہار‘‘ بیوی کو صرف ماں کے ساتھ تشبیہ دینے پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ کسی بھی ابدی محرم عورت کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دینا ظہار ہے،مثلاً:بیٹی،دادی،بہن،پھوپھی اور خالہ،اس لیے کہ حرمت میں یہ سب ماں کی طرح ہیں۔٭ 2: ظہار کرنے والا مرد اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس پر ظہار کا کفارہ دینا لازم ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ کا حکم ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا﴾ ’’اور جو لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ ظہار کرتے ہیں اور پھر اپنی بات سے رجوع کرتے ہیں تو باہم ملنے(جماع)سے پہلے ایک گردن(غلام)آزاد کریں۔‘‘[3] ٭ لیکن نص صرف ماں کے بارے میں آئی ہے،لہٰذا اسی تک محدود کرنا ہی راجح ہے۔ 3: آیت مذکورہ کی رو سے جماع اور مقدمات جماع سے قبل کفارہ کی ادائیگی لازم ہے۔ 4: اگر ادائیگی ٔ کفارہ سے پہلے بیوی سے جماع کیا تو گنہگار ہے،لہٰذا ندامت و استغفار کے ساتھ اللہ سے رجوع کرے،البتہ کفارے کے علاوہ اور کوئی چیز اس کو نہیں پڑتی۔ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا:میں نے ظہار کیا تھا مگر کفارے کی ادائیگی سے پہلے ہی میں جماع کر بیٹھا ہوں۔تو آپ نے فرمایا: ((مَا حَمَلَکَ عَلٰی ذٰلِکَ؟ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ،فَلَا تَقْرَبْھَا حَتّٰی تَفْعَلَ مَا أَمَرَکَ اللّٰہُ بِہِ)) ’’اللہ تجھ پر رحم کرے تو نے ایسا کام کیوں کیا؟ اللہ کے حکم کی تعمیل سے قبل اس کے قریب نہ جانا۔‘‘[1] 5: کفارہ درج ذیل تین امور میں سے بالترتیب ایک ہے:مومن غلام آزاد کرنا،اگر یہ نہ ملے تودو ماہ لگا تار روزے رکھنا اوراگر اس کی استطاعت نہ ہوتو پھرساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴿٣﴾فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ ’’سو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہے،تمھیں اس کی نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمھارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔جس کو غلام نہ ملے تو وہ ہاتھ لگانے سے پہلے لگاتار دو ماہ روزے رکھے اور جس کو اس کی طاقت نہیں ہے تو وہ ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔‘‘[2] 6: روزے وقفہ کیے بغیر رکھنے ضروری ہیں۔چاند کے حساب سے دو ماہ پورے کرے یا ساٹھ دن شمار کر لے۔اگر شرعی عذر(بیماری وغیرہ)کے بغیر درمیان میں روزے نہیں رکھے گا تو پہلے رکھے ہوئے روزے باطل ہو جائیں گے اور دوبارہ دو ماہ کے روزوں کی گنتی پوری کرے گا،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے لگاتار روزے رکھنے کی شرط لگائی ہے۔ 7: کھانا دو مد گندم یادومد کھجور یا جو فی مسکین کے حساب سے ادا کرے۔اگر ساٹھ سے کم مساکین کو پوری مقدار میں کھانا دے دیا تو درست نہیں ہو گا۔