نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
خلع کا بیان
٭ خلع کی تعریف:
عورت کا کسی و جہ سے اپنے خاوند کو پسند نہ کرنا اور اس کا مال(حق مہر وغیرہ)واپس کر کے اس سے خلاصی حاصل کر لینا ’’خلع‘‘ کہلاتا ہے۔
٭ خلع کا حکم:
اگر(درج ذیل)شرطیں پوری کر لی جائیں تو خلع جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی سے جو اپنے خاوند کے بارے میں کہہ رہی تھی:مجھے اس کی عادات اور دین پر کوئی اعتراض نہیں ہے،میں اسلام میں(خاوند کی)نافرمانی کو درست نہیں سمجھتی،کے جواب میں فرمایا:’’تو اس کا باغ واپس کر دے گی۔‘‘ اس نے کہا:ہاں،آپ نے فرمایا:’’ثابت!باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو۔‘‘٭[1]
٭ خلع کے جواز کی شرط:
1: ناپسندیدگی کا اظہار عورت کی طرف سے ہو،اگر مرد ناپسند کرتا ہے تو اس کے لیے طلاق کا معاوضہ لینا جائز نہیں ہے بلکہ اسے صبر کرنا چاہیے اور اگر برداشت سے باہر ہے تو طلاق دے دے۔
2: عورت اس وقت تک ’’خلع‘‘ کا مطالبہ نہ کرے جب تک اس کی کراہت و ناپسندیدگی اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ حقوق زوجیت میں اللہ کی حدود کی پابندی کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے۔
3: مرد جان بوجھ کر اگر عورت کو تنگ کر رہا ہے کہ وہ خلع پر مجبور ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے لیے اس سے معاوضہ لینا حرام ہے اور وہ اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہے،نیز خلع سے ایک ’’طلاق بائن‘‘ نافذ ہوتی ہے اور ’’عقد جدید‘‘ کے بغیر وہ رجوع نہیں کر سکتا۔٭
٭ خلع کے احکام:
1: مرد دیے ہوئے مہر سے زیادہ وصول نہ کرے،جیسا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے خلع کے عوض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صرف وہ باغ لیا تھاجو انھوں نے مہر میں دیا تھا۔
2: اگر خلع میں لفظ خلع مرد نے بولا ہے یا تحریر کیا ہے تو ’’استبرائے رحم‘‘ کے طور پر عدت ایک ماہواری آنے تک ہے،جیسا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہواری تک عدت گزارنے کا حکم دیا تھا اور اگر طلاق کا لفظ استعمال ہوا ہے تو جمہور تین حیض(طلاق کی پوری)عدت گزارنے کے قائل ہیں۔
3: خلع دینے والا عدت کے اندر رجوع کا مالک نہیں ہے،اس لیے کہ محض خلع سے عورت بائن(جدا)ہو گئی ہے،نئے نکاح کے بغیر وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔
٭ یعنی ’’وہ دیندار اور اچھے اخلاق کا مالک ہے مگر خوبصورت نہیں،بجائے اس کے کہ میں اس کی نافرمانی کروں،بہتر ہے کہ اس سے الگ ہو جاؤں۔‘‘(محمد عبدالجبار) ٭ راجح یہی ہے کہ خلع فسخ نکاح ہے،طلاق نہیں اگر دوبارہ باہم ملنا چاہیں تو تجدید نکاح ضروری ہے۔
4: نابالغ لڑکی کی طرف سے باپ خلع قبول کر سکتا ہے،بشرطیکہ بچی کے نقصان کا اندیشہ ہو،اس لیے کہ وہ خود اس وقت اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتی۔
ایلا کا بیان:
٭ ایلا کی تعریف:
کسی مرد کا اللہ کی قسم اٹھا کر کہنا کہ میں اپنی عورت کے ساتھ اتنی مدت وطی(جماع)نہیں کروں گاجبکہ وہ مدت چار ماہ سے زائد ہو۔
٭ ایلا کا حکم:
چار ماہ سے کم کا ایلا عورت کی سرزنش کے طور پر جائز ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
’’اور ان لوگوں کے لیے جو اپنی بیویوں سے ایلا کرتے ہیں،چار ماہ کا انتظار ہے(،پھر)اگر(اس دوران)رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ مکمل ایلا کیا تھا۔اگر ایلا میں تادیب(ادب سکھلانا)مطلوب نہیں بلکہ عورت کو محض ایذا دینا مقصود ہے تو یہ حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ‘’’کسی کوابتدائً نقصان پہنچانا اور مقابلتًا نقصان پہنچاناجائز نہیں ہے۔‘‘[2]
٭ ایلا کے احکام:
1: ایلا کی مدت کو اگر چار ماہ گزر جائیں اور اس دوران میں مرد نے جماع نہیں کیا اور عورت حاکم کے پاس مطالبہ کرتی ہے تو پھر خاوند یا تو ایلا سے رجوع کرے گا یا طلاق دے گا،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴿٢٢٦﴾وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
’’اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا،مہربان ہے اور اگر طلاق کا عزم کر لیں تو اللہ سننے والا،جاننے والا ہے۔‘‘[3]
اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْھُرٍ یُّوقَفُ حَتّٰی یُطَلِّقَ‘’’جب چار ماہ گزر جائیں تو مرد کو پابند سلاسل(قید)کیا جائے یہاں تک کہ طلاق دے۔‘‘[4]
2: چار ماہ گزرنے پر پابند کرنے کے باوجود اگر طلاق نہیں دیتا تو ’’حاکم وقت‘‘ عورت کے ضرر کو دور کرنے کے لیے طلاق کی ڈگری جاری کر دے۔
3: ’’ایلا‘‘ کے نتیجے میں مطلقہ عورت پر طلاق کی عدت(تین حیض)ہے’’استبرائے رحم‘‘ کے لیے ایک ماہواری کا انتظار کرنا کافی نہیں ہے،اس لیے کہ یہ عدت صرف ’’استبرائے رحم‘‘ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا حکم طلاق والا ہے۔
4: اگر قسم کے بغیر مرد نے(حاضر اور تندرست ہونے کے باوجود)عورت کے ساتھ چار ماہ سے بھی زائد عرصہ مجامعت ترک کر رکھی ہے تو عورت کے مطالبے کی صورت میں اس کو عدالت میں لایا جائے،پھر یا تو وہ یہ روش ترک کرے یا طلاق دے دے۔
5: قسم کی مدت ختم ہونے سے پہلے اگر مرد نے ایلا سے رجوع کر لیا ہے تو یہ درست ہے مگر اس پر قسم کا کفارہ ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((وَإِذَا حَلَفْتَ عَلٰی یَمِینٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَا فَکَفِّرْ عَنْ یَّمِینِکَ وَأْتِ الَّذِي ھُوَ خَیْرٌ))
’’جب تو کسی بات پر حلف اٹھا لے اور اس کے برعکس کام کو اس سے بہتر جانے تو جو اچھا کام ہے وہی کر اور قسم کا کفارہ دے۔‘‘[1]