نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
لعان کا بیان
٭ لعان کی تعریف:
مرد نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا یا اس کے حمل کا انکاری ہے،یعنی کہتا ہے کہ اس کے پیٹ میں میرا بچہ نہیں،اور معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہوا ہو تو خاوند مذکور سے اس کے دعوے پر گواہوں کا مطالبہ کیا جائے گا اگر وہ ایسے چار گواہ جو زنا دیکھنے کی گواہی دیں پیش نہ کر سکا تو حاکم ان دونوں کے درمیان لعان کرائے گا،چنانچہ خاوند درج ذیل الفاظ سے چار بار حلفیہ گواہیاں ادا کرے گا:
’’اللہ کی قسم!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے یا یہ حمل میرا نہیں ہے اور پانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔اس کے بعد اگر عورت جرم کا اقرار کر لیتی ہے تو اس پر(رجم کی شرعی)حد نافذ کی جائے گی اور اگر اس سے انکاری ہو تو بایں الفاظ چار بار گواہیاں پیش کرے گی:
’’مجھے اللہ کی قسم!میں شہادت دیتی ہوں کہ اس نے مجھے زنا کرتے نہیں دیکھا یا یہ کہ یہ حمل اسی کا ہے اور پانچویں بار کہے گی کہ اگر یہ مرد اپنے دعوے میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو،اس کے بعد حاکم ان دونوں کے مابین تفریق کرا دے گا اور یہ پھر کبھی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے۔
٭ لعان کا حکم:
شریعت اسلامیہ میں لعان ثابت ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللّٰهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴿٦﴾وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴿٧﴾وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللّٰهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ﴿٨﴾وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾
’’اور جو اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا گواہ نہیں ہیں تو ان میں سے ایک چار بار قسم کے ساتھ گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اور عورت سے سزا اس طرح دور ہو گی کہ وہ چار بار اللہ کی قسم اٹھا کر شہادت دے کہ یہ مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ کہ اگر یہ سچ بولنے والوں میں سے ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو۔‘‘[1]
اور اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر عجلانی اور اس کی بیوی کے مابین لعان کرایا تھا اور اسی طرح ہلال بن امیہ اور اس کی بیوی کے مابین بھی لعان ہوا تھا(رضی اللہ عنہم)۔[2]
اور سہل بن سعد فرماتے ہیں:((فَمَضَتِ السُنَّۃُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَیْنِ أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَھُمَا ثُمَّ لَا یَجْتَمِعَانِ أَبَدًا))
’’اس کے بعد دو لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ انھیں جدا کر دیا جائے اور پھر کبھی وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔‘‘[3]
٭ لعان کی حکمت:
1: اس میں زوجین کی عزت کا تحفظ اور مسلمان کی تکریم ہے(کیونکہ شرعًا لوگ باتیں نہیں بناسکتے۔)
2: خاوند سے حد قذف ساقط ہو جاتی ہے اور عورت سے حد زنا۔
3: حمل اگر واقعتا دوسرے(غیر خاوند)کا ہے تو اس کے انکار کی قانونی گنجائش نکل آتی ہے۔
٭ لعان کے احکام:
1: مرد اور عورت دونوں عاقل و بالغ ہوں تو لعان ہو گا،اس لیے کہ مجنون اور نابالغ غیر مکلف ہیں،جیسا کہ حدیث میں ہے:
((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتّٰی یَکْبُرَ،وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ أَوْیُفِیقَ))
’’تین شخص مرفوع القلم ہیں،سویا ہوا جاگنے تک،نابالغ لڑکا بڑا ہونے تک اور مجنون ذی شعور ہونے تک۔‘‘[1]
2: مرد صاف دعویٰ کرے کہ اس نے عورت کو زنا کرتے دیکھا ہے اور انکار حمل میں یہ دعویٰ کرے کہ اس نے اس عورت سے جماع ہی نہیں کیا یا اس مدت میں جماع نہیں کیا جس میں حمل ٹھہرا ہے،مثلاً:یہ دعویٰ کرے کہ اس عورت نے اس بچے کو چھ ماہ سے کم مدت میں جنم دیا ہے،ان دعووں کے بغیر لعان نہیں ہو گا،اس لیے کہ محض الزام اور شبہے کی بنیاد پر لعان کرنا مشروع نہیں ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
’’اے ایمان والو!اکثر ظن سے بچو!بلاشبہ بعض ظن گناہ ہیں۔‘‘[2]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ‘ ’’خود کو(برے)ظن سے بچاؤ۔‘‘[3]
محض الزام کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس عورت کو طلاق دے دے تاکہ دل کے وسوسوں کی شدت اور ضمیر کی ملامت سے بچ سکے۔
3: حاکم ایمان والوں کی ایک جماعت کے سامنے لعان کا اجرا کرائے اور انھی الفاظ سے جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
4: حاکم کو چاہیے کہ خاوند کو اس انداز سے سمجھائے،جیسا کہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
((أَیُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَہُ وَھُوَ یَنْظُرُ إِلَیْہِ،اِحْتَجَبَ اللّٰہُ مِنْہُ وَفَضَحَہُ عَلٰی رُؤُوسِ الْأَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ))
’’جو شخص اپنے(حقیقی)بچے کا انکار کرتا ہے جبکہ وہ(بچہ)اس کی طرف دیکھ رہا ہو،اللہ اس سے حجاب کر لے گا اور پہلے پچھلے لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کرے گا۔‘‘[4]
اور عورت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق سمجھائے:
((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ أَدْخَلَتْ عَلٰی قَوْمٍ مَّنْ لَیْسَ مِنْھُمْ فَلَیْسَتْ مِنَ اللّٰہِ فِي شَيْئٍ وَّلَنْ یُّدْخِلَھَا اللّٰہُ جَنَّتَہُ))
’’جو عورت کسی برادری میں اس(بچے)کو داخل کر دیتی ہے،جو ان میں سے نہیں ہے تو اللہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اسے ہر گز بہشت میں داخل نہیں کرے گا۔‘‘[1]
5: دونوں کے درمیان تفریق کرا دے اور اس کے بعد وہ کبھی اکٹھے نہ ہو سکیں گے۔فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
((حِسَابُکُمَا عَلَی اللّٰہِ،أَحَدُکُمَا کَاذِبٌ،لَا سَبِیلَ لَکَ عَلَیْھَا))’’تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے،تم میں سے ایک جھوٹا ہے،(اور اے خاوند!)تیرا اس پر کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘[2]
6: لعان کرنے والے خاوند سے بچے کی نسبت کٹ جائے گی،یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اور نہ وہ اس بچے پر خرچ کرے گا۔البتہ کچھ احکامات میں وہ بچہ اور خاونداحتیاطاً باپ بیٹے کی مانند ہیں،مثلاً:خاوند اس بچی سے نکاح نہیں کر سکے گا،نیز وہ بچی یا بچہ اس کی دیگر بیویوں سے پیدا شدہ اولاد کے لیے محرم قرار پائے گا۔اور اس کا الحاق ماں کے ساتھ ہو گا اور اسی کا وارث ہو گا،جیسا کہ دو لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے:
((أَنَّہُ یَرِثُ أُمَّہُ وَتَرِثُہُ أُمُّہُ))’’یہ اپنی ماں کا وارث ہے اور اس کی ماں اس کی وارث ہے۔‘‘[3]
7: اگر کبھی لعان کرنے والا مرد خود کو جھوٹا کہے تو اولاد کا الحاق اس کے ساتھ ہو جائے گا(اور اسے حد قذف لگائی جائے گی)۔