نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
طلاق کی اقسام
1:طلاق سنی:
اس ’’طہر‘‘ میں طلاق دینا جس میں جماع نہیں ہوا،طلاق سنی کہلاتا ہے،لہذا جب مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور اسے یقین ہو کہ طلاق دیے بغیر نقصان اور ضرر دور نہیں ہو سکتا تو وہ انتظار کرے اور حیض کے بعد ’’طہر‘‘میں ایک طلاق دے،اگر اس ’’طہر‘‘ میں جماع نہیں کر چکا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾
’’اے نبی!(لوگوں سے کہہ دو کہ)جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔‘‘[3]
2:طلاق بدعی:
حیض یا نفاس یا اس طہر میں طلاق دینا جس میں وہ جماع کر چکا ہے یا ایک ہی بار یہ لفظ کہہ دینا کہ ’’تجھے تین طلاقیں ہیں ‘‘یا یوں کہے کہ’’تجھے طلاق ہے،طلاق ہے،طلاق ہے۔‘‘یہ بدعی اور ناجائز اندازِ طلاق کی صورتیں
٭ سنن أبي داود،حدیث:2193 میں ’لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ‘ یعنی اکراہ(زبردستی)کی صورت میں طلاق دینا اور غلام آزاد کرنا معتبر نہیں ہے۔(یہ حدیث صحیح ہے۔زبیر علی زئی)موطأ امام مالک(حدیث:1277)میں ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں مار کٹائی کا ڈر دے کر ایک شخص سے اس کی منکوحہ کی طلاق حاصل کر لی گئی۔عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نے فیصلہ دیا کہ زبردستی کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے اور عورت کی اسی شخص کے ساتھ شادی کردی گئی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کے ولیمے میں شریک ہوئے۔(الاثری)
ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق سے رجوع کا حکم دیا تھا،جبکہ انھوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دے دی تھی اور مزید فرمایا کہ’’انتظار کر یہاں تک کہ’ ’طہر‘‘ کے بعد حیض آئے اور پھر پاک ہو تو پھر اگر تو چاہے تو طلاق دے یا اپنے پاس رکھ۔‘‘ اور اسی موقع پر فرمایا:
((فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِي أَمَرَ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ أَنْ تُطَلَّقَ لَھَا النِّسَائُ))
’’یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے(سورئہ طلاق میں۔‘‘)[1]
نیز آپ کو اطلاع ملی کہ ایک شخص نے ایک ہی کلمے میں اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں،یعنی کہا:’’تجھے تین طلاقیں ‘‘ تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
((أَیُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَأَنَا بَیْنَ أَظْھُرِ کُمْ؟))’’میں تمھارے اندر موجود ہوں اور اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے۔‘‘[2]
جمہور علماء کے نزدیک طلاق مسنون کی طرح طلاق بدعی بھی واقع ہو جاتی ہے اور رشتۂ ازدواج ختم ہو جاتا ہے،البتہ خاوند گنہگار ہو گا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی ہے۔
3:طلاق بائن:
یہ وہ طلاق ہے جس میں طلاق دینے والے کو رجوع کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،البتہ نئے ’’مہر‘‘ اور ’’شرائط‘‘ کے تحت عقد جدید کر سکتا ہے،عورت کی مرضی ہے چاہے تو اسے قبول کرے یا رد کر دے۔درج ذیل پانچ صورتوں میں طلاق بائن واقع ہوتی ہے:
٭ مرد نے ’’طلاق رجعی‘‘دی ہے اور عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کے بعد طلاق بائن ہو جاتی ہے۔
٭ مرد نے عورت سے مال وصول کر کے ’’خلع‘‘ کی صورت میں(عورت کے مطالبے پر)طلاق دی ہے۔
٭ اگر ان کے مابین دونوں میاں بیوی کے منصفوں نے طلاق دی ہے،جبکہ وہ محسوس کرتے ہوں کہ طلاق،نکاح کے باقی رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔
٭ رخصتی کے بعد اور جماع سے پہلے طلاق واقع ہو جائے،اس لیے کہ مجامعت سے پہلے مطلقہ پر عدت نہیں ہے۔محض ’’وقوع طلاق‘‘سے وہ بائن(جدا)ہو جائے گی۔
٭ مختلف مجالس میں تین طلاقیں دے،٭ یا مختلف مواقع پر پہلے سے واقع کردہ دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق
٭ خاوند اگر کہے ’’تجھے تین طلاقیں ‘‘یا کہے ’’تجھے طلاق،طلاق،طلاق‘‘تو اس سے میاں بیوی کے درمیان بڑی جدائی واقع نہیں ہوگی کیونکہ یہ ایک ہی طلاق ہے،اس لیے کہ تین طلاقوں سے مراد تین دفعہ طلاق دینا ہے اس طرح کہ ہر دفعہ کے بعد سوچ و بچار کے بعد رجوع کرنے یا نہ کرنے کا کھلا موقعہ ملے جبکہ ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دینے سے نہ صرف شریعت کا مقصد فوت ہو جاتاہے بلکہ میاں بیوی بھی لاعلمی کی وجہ سے پچھتاتے رہتے ہیں۔(ع،ر)
دے دے تو ان کے مابین بینونت کبرٰی(بڑی جدائی)واقع ہو جاتی ہے اور یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں،جب تک وہ دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح نہ کرے۔٭
4:طلاق رجعی:
جس میں خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے،چاہے عورت راضی نہ بھی ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾
’’اور ان کے خاوند اگر اصلاح کا ارادہ رکھیں تو وہ انھیں واپس لانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘[1]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق کے بعد رجوع کا حکم دیا تھا۔[2]
رجعی طلاق’’مدخولہ عورت‘‘(جس سے خاوند جماع کر چکا ہو)کو تین سے کم طلاقوں کی صورت میں ہوتی ہے،جبکہ خاوند نے بیوی سے طلاق کا عوض نہ لیا ہو،رجعی طلاق والی عورت کے لیے عدت کے دوران میں نفقہ اور رہائش کا بندوبست مرد کے ذمے ہے۔عدت گزرنے کے بعد وہ مرد سے جدا قرار دی جاتی ہے،اگر مرد رجوع کرنا چاہتا ہے تو بلاتاخیر کہہ دے:’’میں تجھے واپس لیتا ہوں یا رجوع کرتا ہوں ‘‘ اور رجوع پر دو عادل گواہ بنانا مسنون ہے۔‘‘
5:طلاق صریح:
طلاق میں ایسے الفاظ استعمال کرنا کہ ان کے ساتھ ’ ’نیت طلاق‘‘کی ضرورت نہ ہو،مثلاً:یوں کہے کہ تجھے طلاق ہے یا تو مطلقہ ہے یا میں نے تجھے طلاق دے دی۔
6:طلاق بالکنایہ:
لفظ،طلاق کا مفہوم واضح نہ کرتا ہو،اگر اس سے ارادہ طلاق کا کرے تو طلاق ہو جائے گی،مثلاً:مرد کہتا ہے اپنے میکے چلی جا،گھر سے نکل جا یا میرے ساتھ کلام نہ کر وغیرہ۔ایسے الفاظ جن میں صریح ’’لفظ طلاق‘‘ نہ ہو
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ابوبکر رضی اللہ عنہ اور خلافت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سال میں ایک مجلس(موقع و محل)کی تین طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں(صحیح مسلم،الطلاق،باب طلاق الثلاث،حدیث:1472)،نیز مسند احمد(:1/265)میں ہے:’’رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دی تھیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایک قرار دے کر رجوع کا اختیار دے دیا،چنانچہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے رجوع کرلیا۔‘‘فتح الباری(362/9)شرح بخاری میں ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیک وقت تین طلاقیں دینے(جو کہ بدعی طلاق کی ایک صورت ہے)سے روکنے کے لیے تعزیری انداز پر ان کے تین ہی واقع ہونے کا حکم صادر فرمایا،جیسا کہ ان کے الفاظ ’إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ [قَدْ] کَانَتْ لَھُمْ فِیہِ أَنَاۃٌ فَلَوْ أَمْضَیْنَاہُ عَلَیْھِمْ فَأَمْضَاہُ عَلَیْھِمْ‘(صحیح مسلم،الطلاق،باب طلاق الثلاث،حدیث:1472)سے واضح ہے۔نیز آیت مبارکہ سے بھی یہ واضح ہے کہ ایک مجلس کی طلاق چونکہ ایک بار(مرۃ)میں واقع کردہ ہے،لہٰذا اس کے بعد امساک(رجوع)ہو سکے گا۔’ھٰذَا مَا عِنْدِي وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ‘(الاثری)
اور نہ ایسا لفظ جو طلاق کا ہم معنی ہو تو ایسی صورت میں اگر طلاق کی نیت ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک منکوحہ کو بایں الفاظ طلاق دی ہے:’اِلْحَقِي بِأَھْلِکِ‘ ’’تو اپنے اہل کے پاس چلی جا۔‘‘[1]
آپ نے اس جملے میں طلاق ہی مراد لی تھی لیکن اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔اس کی دلیل یہ ہے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل میں کہ’ ’بیوی سے الگ ہو جا اور اس کے قریب نہ جا‘‘ اپنی بیوی کو کہا تھا ’اِلْحَقِي بِأَھْلِکِ‘ کہ ’’اپنے اہل کے پاس چلی جا۔‘‘ چنانچہ وہ اپنے میکے چلی گئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی تھی۔
یہ ان الفاظ کے بارے میں ہے جو طلاق کے معنی میں پوشیدہ اور غیر واضح ہیں اور اگر ایسا لفظ کہتا ہے جو صریح طلاق پر تو دلالت نہیں کرتا،البتہ طلاق کے مفہوم میں ظاہر ہے تو اس میں نیت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ لفظ کہتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی،مثلاً:یہ کہے تو علیحدہ ہے تو بائن ہے،لہٰذا دوسرے مردوں کے لیے زینت کر لے۔
7:فوری اور معلق طلاق:
فوری نافذ شدہ طلاق کو منجز طلاق کہتے ہیں،مثلاً:خاوند کہے کہ تجھے طلاق ہے تو طلاق والی ہے تو یہ کہتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر وہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر طلاق کو معلق کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے یا اگر تو نے یہ کام نہیں کیاتو تجھے طلاق ہے۔تو شرط حاصل ہونے کے بعد طلاق ہو جائے گی۔اسے ’’طلاق معلق‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
8:طلاق کا اختیار اور طلاق تملیک:
خاوند اپنی بیوی کو اگر کہتا ہے:’’تجھے میرے ساتھ رہنے یا الگ ہونے کا اختیار ہے۔‘‘ اور وہ طلاق اختیار کر لیتی ہے تو مطلقہ ہو جائے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو اختیار دیا تھا تو انھوں نے آپ کو اختیار کر لیا تھا اس و جہ سے وہ مطلقہ نہیں قرار دی گئیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا﴾
’’اے نبی!اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمھیں سامان دے کر اچھے انداز میں رخصت کر دیتا ہوں۔‘‘[2]
اور’ ’طلاق تملیک‘‘کی صورت اس طرح ہے کہ مرد اپنی عورت سے کہے:’’میں تجھے تیرے معاملے کا مالک بناتا ہوں ‘‘ یا’’تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے‘‘ اور عورت جواب میں طلاق لے لے تو ایک رجعی طلاق واقع ہو جائے گی۔٭
٭ امام مالک اور بعض دیگر فقہاء کے نزدیک اس صورت تملیک میں عورت تین طلاقیں اختیار کرلیتی ہے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں،پھر مرد کو رجوع کا حق ہے اور نہ ہی وہ نکاح کر سکتا ہے۔(مؤلف)
9:وکیل کے ذریعے سے یا تحریری طلاق:
اگر طلاق دینے کے لیے کسی کو وکیل مقرر کرے اور وہ طلاق دے یا طلاق نامہ تحریر کر کے عورت کو روانہ کر دے تو طلاق واقع ہو جائے گی،اس لیے کہ حقوق میں وکالت جائز ہے اور زبان سے بولنا اور تحریر کرنا دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔
10:طلاق تحریم:
عورت کو حرام قرار دینے میں اگر طلاق کی نیت ہے تو طلاق نافذ ہو گی اور اگر’’ظہار‘‘کا ارادہ ہے تو ’’ظہار‘‘ ہو گا اور ’’کفارئہ ظہار‘‘ کی ادائیگی کرے گا٭ لیکن اگر’’طلاق‘‘ و’’ظہار‘‘ کا ارادہ نہیں ہے بلکہ قسم کا ارادہ ہے،مثلاً:یوں کہے:اگر تو نے فلاں کام کیا تو تو حرام ہے اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس میں قسم کا کفارہ ہے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:جب مرد اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ قسم ہے،وہ ’’کفارئہ یمین‘‘ ادا کرے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔[1]
11:حرام طلاق:
مرد اپنی بیوی کو ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں دے دے یا ایک مجلس میں تین جملے بول دے کہ تجھے طلاق ہے،تجھے طلاق ہے،تجھے طلاق ہے۔’’فقہائے امت‘‘کا اجماع ہے کہ اس طرح طلاق دینا حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ نے فرمایا:
((أَیُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَأَنَا بَیْنَ أَظْھُرِکُمْ؟))’’کیا اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جبکہ میں تمھارے اندر موجود ہوں۔‘‘[2]
ایک صحابی رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کی کہ میں اسے قتل نہ کر دوں۔
ائمۂ اربعہ اور جمہور علماء اس صورت میں تین طلاقوں کے نفاذ کے قائل ہیں اور یہ کہ مطلقہ اس مرد کے لیے حلال نہیں ہو گی،الّا یہ کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح کرے جبکہ دوسرے علماء اسے ایک ’’بائن‘‘(جس کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے)یا رجعی طلاق شمار کرتے ہیں اور دلائل کے اختلاف اور نصوص سے ہر ایک کے اپنے اپنے انداز فہم کی وجہ سے یہ اختلاف وقوع پذیر ہوا ہے۔
اس مسئلے میں اختلاف کی وجہ سے طلاق دینے والے کے حال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔اگر وہ لفظ ’’تجھے تین طلاق‘‘سے عورت کو صرف ڈرانا چاہتا ہے یا اس سے وہ قسم کا مفہوم ذہن میں رکھتا ہے،مثلاً:کہے ’’اگر تو نے یہ کام کیا تو تین طلاقیں ‘‘ اور عورت نے یہ کام کر بھی لیا یا ’’شدت غضب‘‘ میں یہ لفظ اس کے منہ سے نکل گئے جبکہ وہ کلی طور پر
٭ ظہار اور اس کے کفارے کا مفصل بیان آگے آ رہا ہے۔
اس کو الگ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا تو اس پر ایک ’’طلاق بائن‘‘ واقع ہو گی(جس کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے)اور اگر اس کا ارادہ اس کو واقعتا جدا کرنے کا تھا اور یہ کہ وہ اسے کسی صورت میں اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا تو تین طلاقیں نافذ ہوں گی،وہ اس مرد کے لیے حلال نہیں ہو گی،الاّ یہ کہ دوسرے کسی مرد کے ساتھ(دوام کی نیت سے)نکاح کرے(اور پھر کسی وجہ سے طلاق ہوجائے یا شوہر فوت ہوجائے اوردونوں صورتوں میں عدت گزر جائے تو پھر پہلے خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔)اس طرح دلائل میں جمع اور تطبیق ممکن ہو گی اور امت کے افراد میں ’’جذبۂ ترحم‘‘ کا تقاضا بھی یہی ہے۔٭
تنبیہ:جس عورت پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں اور پھر وہ دوسرے خاوند سے نکاح کر لے اور وہ عورت اس کے گھر آباد رہے پھر خاوند کی وفات یا اتفاقیہ طلاق کے نتیجے میں پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کر لے تو یہ پہلا خاوند پھر تین طلاقیں دینے کا مالک ہو جائے گا اور پہلے واقع کردہ طلاقیں ساقط ہو جائیں گی،البتہ جس نے پہلے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں،عورت نے دوسری شادی کر لی اور پھر پہلے شوہر کے پاس آ گئی تو اس میں اختلاف ہے۔امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں:پہلے والی طلاقیں ساقط نہیں ہوں گی اور یہ اب باقی طلاق کا مالک ہے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مکمل تین طلاقوں کا مالک ہے،اس لیے کہ دوسرا خاوند جب پہلے خاوند کی تین طلاقوں کو ساقط کر دیتا ہے تو اس کی دی ہوئی ایک یا دو طلاقوں کے ختم ہونے کا سبب کیوں نہیں ہو گا۔ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی ہے۔واللہ اعلم
تنبیہ:جمہور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین رحمۃ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ غلام اپنی عورت کو صرف دو طلاقیں دے سکتا ہے،دوسری طلاق کے بعد وہ اس سے بائن(جدا)ہو جائے گی اور جب تک دوسرے مرد کے ساتھ نکاح نہ کرے،اس(غلام)کے لیے حلال نہیں ہو گی۔٭
٭ ابن رشد اپنی کتاب بدایۃ المجتھد(46/2)میں لکھتے ہیں:جمہور کے مسلک کی بنیاد اس پر ہے کہ وہ طلاق کے اس ناجائز طریقے کو تین طلاقیں نافذ کر کے ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جب انھیں اس کے نقصانات کا مسلسل تجربہ ہو گا تو وہ اس طریقے سے طلاق دینا بند کردیں گے مگر اس طرح شریعت نے سوچ و بچار اور رجوع کرنے یا نہ کرنے کی مہلت دے کر جو رخصت و نرمی دی ہے،وہ باطل ہو جاتی ہے،جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:﴿لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا﴾(الطلاق 1:65)’’شائد کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی راہ پیدا کر دے۔‘‘ یعنی مرد کے دل میں عورت کی رغبت پیدا کر دے اور وہ رجوع پر آمادہ ہو جائے اور اگر مسلک جمہور کے مطابق ایک دفعہ کی تین طلاقوں کو نافذ کر دیا جائے تو پھر اس کے بعد کس نئی بات کے پیدا ہونے کی توقع کی جائے؟ اس دور میں لوگوں کو بالعموم شریعت اسلامیہ کے اصل طریقۂ طلاق کا پتہ نہیں ہے بلکہ جاہل لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ جب تک تین کا لفظ نہیں بولیں گے طلاق واقع ہی نہیں ہو گی۔اس انداز کی صورت حال میں تین کا نفاذ عورتوں اور معاشرے پر زیادتی ہے جس کے نتیجہ میں کئی ایک پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے ہیں جن پر توجہ دینا مفکرین علماء کے لیے انتہائی ضروری ہے۔نفس مسئلہ کی شرعی پوزیشن تفصیلاً ہم پہلے تحریر کر آئے ہیں۔(الاثری)
٭ جبکہ حافظ ابن حز م رحمہ اللہ اور دیگر محققین کا موقف یہ ہے کہ غلام کا بھی وہی حکم ہے جو عام اور آزاد مومن کا ہے،یعنی غلام بھی تین طلاق کا مالک ہے،یہ موقف راجح ہے جبکہ صحابۂ کرام میں سے اکثر سے مذکورہ موقف والی روایات سندًا ثابت نہیں۔(ع،و)