نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
عارضی محرمات
1: بیوی کی بہن(سالی اپنے بہنوئی کے لیے)اس وقت تک حرام ہے،جب تک بیوی اس کے نکاح میں ہے،طلاق کے بعد عدت ختم ہو جائے یا بیوی فوت ہو جائے تو(سالی اور بہنوئی کے لیے نکاح کی)حرمت ختم ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ﴾
’’اور یہ کہ تم دو بہنوں کو(ایک نکاح میں)اکٹھا کرو(یہ تم پر حرام ہے۔)‘‘[2]
2: بیوی کی پھوپھی یا خالہ سے اس وقت تک نکاح نہیں ہو سکتا،جب تک کہ ان کی بھتیجی یا بھانجی ’’عقد‘‘ میں ہے،طلاق کے بعد عدت گزرنے یا اس کے فوت ہو جانے کی صورت میں یہ حلال ہیں۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((نَھٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِھَا أَوْ خَالَتِھَا))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا ہے کہ پھوپھی یا خالہ پر بھتیجی یا بھانجی کا نکاح کیا جائے۔‘‘[3]
3: نکاح والی عورت کا نکاح،دوسری جگہ نہیں ہو سکتا،جب تک کہ پہلا نکاح قائم ہو(ہاں،اگر)طلاق ہو جائے یا بیوہ ہو جائے اور عدت گزر جائے تو دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے،اس لیے کہ محرمات کے تذکرے میں اللہ جل شانہ کا فرمان ہے:﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾’’اور نکاح والی عورتیں(بھی تم پر حرام ہیں)۔‘‘ [4]
4: طلاق یا خاوند کی وفات کے بعد عدت گزارنے والی عورت سے عدت کے گزرنے تک نکاح نہیں ہو سکتا بلکہ(صراحت کے ساتھ)پیغام نکاح دینا بھی حرام ہے،البتہ اشارہ کنایہ کیا جا سکتا ہے،مثلاً:یہ کہے کہ میں آپ کے بارے میں دلچسپی رکھتا ہوں وغیرہ۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَـٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَن تَقُولُوا قَوْلًا مَّعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾
’’اور ان(عدت والی عورتوں)سے(نکاح کا)پوشیدہ وعدہ نہ لو،ہاں دستور کے مطابق بات کہہ سکتے ہو اور کتاب کی مقرر کردہ(عدت کی)میعاد پوری ہونے سے پہلے عقد نکاح پختہ نہ کرو۔‘‘[1]
5: جس عورت کو تین طلاقیں ہو جائیں،وہ اپنے اس خاوند سے نکاح نہیں کر سکتی،اب اگر وہ عورت(ہمیشہ کی نیت سے)دوسرے آدمی سے نکاح کرے،پھر اتفاقاً طلاق یا خاوند کی موت کی وجہ سے اس سے جدائی ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے تو پھر اس کا پہلے خاوند سے نکاح ہو سکتا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾’’جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے،پہلے کے لیے حلال نہیں ہے۔‘‘[2]
6: زانیہ عورت سے مومن مرد نکاح نہ کرے،جب تک کہ وہ زنا سے تائب نہ ہو جائے،اگر اس کے توبہ کا یقینی علم ہو جائے اور عدت گزر جائے تو نکاح جائز ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾’’زانیہ کے ساتھ زانی یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے اور ایمان والوں پر یہ حرام ہے۔‘‘[3]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا یَنْکِحُ إِلَّا مِثْلَہُ‘’’درے کا سزا یافتہ زانی اپنے جیسی(بدکارہ)کے ساتھ ہی نکاح کرتا ہے۔‘‘[4]