نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
طلاق کا بیان
٭ طلاق کی تعریف:
صریح لفظ میں ازدواجی تعلق توڑ دینا،مثلاً:یہ کہے کہ تجھے طلاق ہے یا تجھے چھوڑا یا پھر کنائے کے طور پر کوئی لفظ کہے اور نیت طلاق کی ہو،مثلاً:طلاق کے ارادے سے یہ کہنا کہ اپنے میکے چلی جا۔
٭ طلاق کا حکم:
دونوں میاں بیوی میں سے ہر ایک کو متوقع یا حقیقی نقصان سے بچانے کے لیے طلاق مباح ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾’’طلاق دو بار ہے،پھر(خاوند اسے)اچھے طریقے سے اپنے پاس رکھے یا چھوڑ دے۔‘‘[5]
نیز ارشاد ربانی ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾
’’اے نبی!(لوگوں سے کہہ دو کہ)جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت(کے شروع)میں طلاق دو۔‘‘[6]
اگر نقصان کا ازالہ طلاق کے بغیر نہیں ہو رہا تو طلاق لازم ہے لیکن اگر طلاق میں کسی ایک فریق کا نقصان زیادہ ہے اور فائدہ کم تو ایسی صورت میں طلاق حرام ہے۔ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عورت کی بدخلقی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:’’اسے طلاق دے دے۔‘‘ [1]
اور دوسرے مسئلے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:((أَیُّمَا امْرَأَۃٍ سَأَلَتْ زَوْجَھَا الطَّلَاقَ فِي غَیْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَیْھَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ))
’’جو عورت بلاوجہ اپنے خاوند سے طلاق کا سوال کرتی ہے،اس پر بہشت کی ہوا بھی حرام ہے۔‘‘[2]