نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

رضاعت کے ضروری مسائل

دودھ پلانے والی کا خاوند دودھ پینے والے کا باپ قرار پائے گا اور اگر اس کی دوسری بیوی ہے اور اس سے اس کی اولاد بھی ہے تو وہ بھی اس بچے کے بھائی بہن قرار پائیں گے۔بنا بریں اس دودھ پینے والے بچے پر رضاعی باپ کی مائیں،بہنیں،بیٹیاں،پھوپھیاں،خالائیں سب حرام ہو جائیں گی۔اسی طرح دودھ پلانے والی کی ساری اولاد جس خاوند سے بھی ہو،دودھ پینے والے بچے کے بھائی بہن بن جائیں گے،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا تھا:’اِئْذَنِي لَہُ فَإِنَّہُ عَمُّکِ‘ ’’(اے عائشہ!)(ابوالقعیس کے بھائی افلح کوگھر کے اندر آنے کی)اجازت دے دے،اس لیے کہ یہ تیرا چچا ہے۔‘‘ اور(راوی کہتا ہے کہ)ابوالقعیس کی بیوی نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔[2] اس حدیث سے ’’رضاعی چچا‘‘ثابت ہوا ہے،لہٰذا مذکورہ بالا دیگر رشتے اس کے تابع ہوں گے۔ دودھ پینے والے بچے کے بھائیوں اور بہنوں کے لیے ’’حرمت رضاعت‘‘ ثابت نہیں ہو گی،اس لیے کہ انھوں نے دودھ نہیں پیا،چنانچہ دودھ پینے والے کا بھائی دودھ پلانے والی یا اس کی ماں یا اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے،اسی طرح بچے کی بہن دودھ پلانے والی کے خاوند یا اس کے باپ اور بیٹے سے نکاح کر سکتی ہے۔ کیا رضاعی بیٹے کی بیوی رضاعی باپ کے لیے حرام ہے؟ جمہور علماء کے نزدیک حرمت ثابت ہے،جس طرح کہ ’’صلبی بیٹے‘‘کی بیوی اپنے سسر کے لیے حرام ہے اور بعض اس کے قائل نہیں ہیں،اس لیے کہ ان کے نزدیک ’’رضاع‘‘ سے وہی رشتے حرام ہیں جو ’’نسب‘‘کی وجہ سے حرام ہیں،جبکہ بیٹے کی بیوی اپنے سسر کے لیے نسبی تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ بہو ہونے کی بنا پر حرام ہے۔[3] 4:لعان کی و جہ سے محرمات::مرد کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح کرے جس سے وہ لعان کر چکا ہے کیونکہ صحابیٔ رسول سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((فَمَضَتِ السُّنَّۃُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَیْنِ أَنْ یُّفَرَّقَ بَیْنَھُمَا ثُمَّ لَا یَجْتَمِعَانِ أَبَدًا)) ’’اس کے بعد دو لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ انھیں جدا کر دیا جائے اور پھر کبھی وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔‘‘[1]