روزے کا بیان
روزے کے ارکان،سنن اور مکروہات
٭ روزے کے ارکان:
1 نیت کرنا:
یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے دل میں روزہ رکھنے کا پختہ عزم کرنا۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘ ’’عملوں کا انحصار نیتوں پر ہے۔‘‘ [4]
اگر روزہ فرض ہو تو صبح صادق سے پہلے رات کو ہی اس کی نیت وارادہ کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’مَنْ لَّمْ یُبَیِّتِ الصِّیَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَلَا صِیَامَ لَہُ‘ ’’جو رات کو روزہ کی نیت نہ کرے،اس کا روزہ نہیں ہے۔‘‘ [5]
اور اگر روزہ نفل ہو تو طلوع فجر کے بعد بھی نیت کر سکتا ہے بلکہ اگر کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو سورج طلوع ہونے کے بعد بھی نیت ہو سکتی ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ذَاتَ یَوْمٍ،فَقَالَ:ھَلْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ؟ فَقُلْنَا:لَا،قَالَ:فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ‘
’’ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا:’’کیا تمھارے پاس کوئی چیز ہے۔‘‘ ہم نے کہا:نہیں آپ نے فرمایا:’’تو پھر میں روزے دار ہوں۔‘‘ [1]
2:امساک:
یعنی کھانے پینے اور مجامعت سے رکنا۔
3:وقت:
اس سے مراد پورا دن ہے،یعنی صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک کا وقت روزے کا وقت ہے۔
اگر کوئی شخص رات کا روزہ رکھے اور دن میں افطار کرے تو یہ صحیح نہیں ہے،اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾
’’اور رات(کی ابتدا)تک روزہ پورا کرو۔‘‘[2]