روزے کا بیان
روزے کی شرائط
مسلمان پر روزہ تب فرض ہوتا ہے جب وہ عاقل اور بالغ ہو۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتّٰی یَحْتَلِمَ،وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ‘
’’تین آدمی مرفوع القلم ہیں:سونے والا بیدار ہونے تک،نابالغ بالغ ہونے تک اور مجنون سمجھنے تک۔‘‘[5]
اور مسلمان عورت کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ حیض ونفاس سے پاک ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے دینی نقصان میں فرمایا:
((أَلَیْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟))’’کیا ایسے نہیں کہ جب وہ حیض سے ہوتی ہے،نہ نماز پڑھتی ہے،نہ روزہ رکھتی ہے۔۔‘‘ [6]
٭ مسافر کا روزہ:
مسلمان جب اڑتالیس میل(مسافت قصر)کے سفر کا ارادہ کرے تو شارع نے اسے اجازت دی ہے کہ روزہ نہ رکھے اور جب گھر واپس آئے تو پھر قضا ادا کر لے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾’’سو جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔‘‘[1]
ہاں اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مسافر کو مشقت نہیں ہوتی اور وہ روزہ رکھ لے تو اچھا ہے اور اگر روزہ میں دوران سفر تکلیف ہو تو روزہ چھوڑنا بہتر ہے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ کے لیے جاتے تھے،رمضان المبارک میں ہم میں سے بعض روزہ رکھتے اور بعض نہ رکھتے،کوئی کسی پر معترض نہیں ہوتا تھا۔البتہ یہ بات پیش نظر رہتی تھی کہ جو روزہ آسانی سے رکھ سکتا ہے وہ روزہ رکھے اور جو کمزور ہے وہ روزہ چھوڑ دے،یہ بہتر ہے۔‘‘ [2]
٭ بیمار کا روزہ:
رمضان المبارک میں مسلمان بیمار ہو جائے تو وہ شدید مشقت برداشت کیے بغیر اگر روزہ رکھ سکتا ہے تو روزہ رکھے،ورنہ چھوڑ دے،پھر اگر اسے بیماری سے تندرست ہونے کی توقع ہے تو ان ایام کے روزوں کی قضا ادا کرے اور اگر تندرست ہونے کی امید نہیں ہے کہ مرض دائمی ہے تو ہر روز ایک مد طعام کسی مستحق کو کھلائے۔
اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾’’اور اس کی(مشقت کے ساتھ)طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کا کھانا دیں۔‘‘[3]
٭ بوڑھے کے روزے کا حکم:
مسلمان مرد یا عورت اگر بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ جائیں کہ روزہ نہ رکھ سکیں تو ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:بہت بوڑھے کے لیے اجازت ہے کہ وہ ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور اس پر قضا نہیں ہے۔[4]
٭حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے روزے کا حکم:
مسلمان عورت اگر حاملہ ہے اور روزہ رکھنے کی صورت میں اسے یا حمل کے لیے کوئی خطرہ ہے تو افطار کرے اور عذر زائل ہونے کے بعد قضا ادا کرے۔اگر یہ عورت دولت مند ہے تو روزانہ ایک مد گندم بھی خیرات کرے تاکہ اس کے لیے زیادہ ثواب کا باعث بنے اور اسے فضیلت حاصل ہو۔
یہی حکم دودھ پلانے والی عورت کا ہے کہ اگر اسے یا اس کی اولاد کو خطرہ ہے تو وہ روزہ نہ رکھے،جبکہ اسے اور کوئی عورت دودھ پلانے کے لیے نہیں ملتی۔یہ حکم قرآن پاک کی اس آیت سے استنباط کیا گیا ہے:
﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾’’اور اس کی(مشقت کے ساتھ)طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کا کھانا دیں۔‘‘[1]
﴿يُطِيقُونَهُ﴾کا اصل لغت میں مفہوم یہ ہے کہ وہ روزہ رکھنے میں شدید مشقت پائیں۔اگر ایسے لوگ افطار کریں تو قضا کریں گے یا ایک مسکین کو طعام دیں گے۔
تنبیہات:
اگر کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس پر(نذر کے)روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہُ‘ ’’جو فوت ہو جائے اور اس پر روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔‘‘ [2]
آپ نے اس شخص کے لیے فرمایا،جس نے یہ کہا تھا:’إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَیْھَا صَوْمُ شَھْرٍ،أَفَأَقْضِیہِ عَنْھَا؟ قَالَ:نَعَمْ،فَدَیْنُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّقْضٰی‘
’’میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس پر ایک ماہ کے روزے باقی تھے،کیا میں اس کی طرف سے قضا ادا کروں۔تو آپ نے فرمایا:’’ہاں،اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔‘‘ [3]