روزے کا بیان

روزے میں مسنون امور

1: افطار جلدی کرنا مسنون ہے،بایں طور کہ سورج غروب ہونے کے فورًا بعد افطار کیا جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَّا عَجَّلُوا الْفِطْرَ‘ ’’جب تک لوگ جلدی افطار کریں گے،اچھائی میں رہیں گے۔‘‘ [3] 2: تازہ یا خشک کھجور یا پانی سے روزہ افطار کرنا سنت ہے اور یہ کہ یہ افطار نماز مغرب سے پہلے ہو۔اور ان میں اول الذکر سے افطار افضل ہے اور آخری،یعنی پانی سے افطار ادنیٰ درجہ ہے۔مستحب یہ ہے کہ کھجور کے تین یا پانچ یا سات دانوں سے افطار کیا جائے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ یُّصَلِّيَ عَلٰی رُطَبَاتٍ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ رُّطَبَاتٌ فَتُمَیْرَاتٌ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تُمَیْرَاتٌ حَسَاحَسَوَاتٍ مِّنْ مَّائٍ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجوروں کے ساتھ نماز سے پہلے افطار کرتے تھے،اگر تازہ نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ،اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ بھر لیتے۔‘‘[4] 3: افطار کے وقت دعا پڑھنا بھی مسنون ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ((ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ))’’پیاس ختم ہوگئی،رگیں تر ہوگئیں اور اجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔‘‘ [5] اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: ((اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَسْأَلُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِي وَسِعَتْ کُلَّ شَيْئٍ أَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي)) ’’اے اللہ!میں تجھ سے تیری رحمت جو ہر چیز پر وسیع ہے،(کے وسیلے)سے سوال کرتا ہوں کہ میرے گناہوں کی مغفرت فرما۔‘‘[1] 4:سحری کھانا لازم ہے،یعنی رات کے آخری حصے میں روزے کی نیت سے کھانا اور پینا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ أَھْلِ الْکِتَابِ أَکْلَۃُ السَّحَرِ‘’’ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ میں سحری کھانے ہی کا فرق ہے۔‘‘ [2] اور فرمایا:’تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَکَۃً‘ ’’سحری کھاؤ اس لیے کہ سحری میں برکت ہے۔‘‘ [3] 5: سحری رات کے آخری اوقات تک مؤخر کرنا بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَیْرٍ مَّا أَخَّرُوا السُّحُورَ وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ)) ’’میری امت اس وقت تک بھلائی میں رہے گی جب تک وہ افطار جلدی اور سحری مؤخر کرے گی۔‘‘ [4] سحری کا وقت رات کے آخری نصف سے شروع ہوتا ہے اور صبح صادق سے چند منٹ قبل تک باقی رہتا ہے۔زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ،فَقُلْتُ:کَمْ کَانَ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالسُّحُورِ؟ قَالَ:قَدْرُ خَمْسِینَ آیَۃً)) ’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی،پھر آپ نماز کے لیے اٹھے،میں نے دریافت کیا اذان اور سحری میں کتنا وقفہ تھا۔کہا:’’پچاس آیات کریمہ کا اندازہ۔‘‘[5] تنبیہ:صبح صادق ہونے میں شک ہو تو کھاپی سکتے ہیں لیکن جب صبح کا یقین ہو جائے تو رک جانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾ ’’اور رات کے سیاہ دھاگے سے صبح کا سفید دھاگہ واضح ہو جانے تک کھاؤ اور پیو۔‘‘[1] ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے کہا:میں سحری کھارہا ہوں جب صبح کا شک ہو جائے تو آیا کھانا بند کر دوں۔فرمایا: ’’جب تک شک ہے کھاتا رہ اور جب صبح کا یقین ہو جائے تو پھر رک جا۔‘‘[2] جمہور فقہاء کا مذہب یہی ہے کہ صبح صادق واضح ہونے تک کھانا پینا جائز ہے،البتہ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ’’طلوع صبح کے شک کے وقت کھانے پر روزہ قضا کرے۔اور یہ محض احتیاط کی بنیاد پر ہے۔‘‘