جنازے کا بیان
سفید اور صاف ستھرے کفن کا انتخاب کرنا مستحب ہے
بہتر یہ ہے کہ کفن سفید اور صاف ہو،نیا کپڑا ہو یا پرانا جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((اِلْبَسُوا مِنْ ثِیَابِکُمُ الْبَیَاضَ،فَإِنَّھَا مِنْ خَیْرِ ثِیَابِکُمْ،وَکَفِّنُوا فِیھَا مَوْتَاکُمْ))
’’سفید لباس پہنو،یہ تمھارے بہترین لباس میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔‘‘[2]
اور کفن کو عود(خوشبودار لکڑی)کی دھونی دینا مستحب ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِذَا أَجْمَرْتُمُ الْمَیِّتَ فَأَجْمِرُوہُ ثَلَاثًا))’’جب تم میت کو دھونی دو تو تین بار دو۔‘‘[3]
مرد اور عورت کے لیے تین چادریں ہوں،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید سحول کے بنے ہوئے نئے کپڑوں میں کفنایا گیا تھا اور ان میں قمیض اور پگڑی نہیں تھی۔[4] البتہ محرم کو اس کے احرام ہی میں کفنایا جائے۔ایک کو تہبند اور دوسری کو بڑی چادر بنالیا جائے۔اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور سر نہ ڈھانپا جائے تاکہ وہ اپنے احرام میں باقی رہے،اس لیے کہ عرفات کے دن جب ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سے گر کر فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اِغْسِلُوہُ بِمَائٍ وَّسِدْرٍ وَّکَفِّنُوہُ فِي ثَوْبَیْنِ وَلَا تُحَنِّطُوہُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ،فَإِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا))
’’اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفناؤ۔نہ خوشبو لگاؤ اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپو،اس لیے کہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔‘‘[5]