جنازے کا بیان

کافر اور خاتون معالج سے علاج کروانے کا جواز

مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کافر اگر مسلمان کے لیے امین ہو تو اس سے علاج کرانا جائز ہے اور ضرورت کے وقت عورت بھی مرد کا علاج کر سکتی ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ نے بعض کاموں میں مشرکین سے خدمت لی ہے[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صحابیات رضی اللہ عنہن جہاد میں زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔[4]