جنازے کا بیان

متعدی اور خطرناک مریضوں کو مخصوص وارڈ میں رکھنے کا جواز

متعدی امراض کے علاج کے لیے ہسپتال میں الگ وارڈ بنانا بہتر ہے اور ان سے تندرستوں کو دور رکھنا ضروری ہے۔معا لجین کے علاوہ کوئی ان سے ملاقات نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے مالکوں کو حکم دیا تھا کہ ’’بیمار اونٹوں کو تندرست اونٹوں میں شامل نہ کیا جائے۔‘‘[5] جب جانوروں میں اتنی احتیاط کی جاسکتی ہے تو انسانوں کے لیے بطریق اولیٰ احتیاط کی ضرورت ہے اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طاعون کے بارے میں ارشاد ہے: ((’فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَّأَنْتُمْ بِھَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْھَا،وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَّلَسْتُمْ بِھَا فَلَا تَھْبِطُوا عَلَیْھَا)) ’’جب کسی علاقے میں طاعون کی وبا پھیل جائے اور تم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو اور اگر تم اس علاقے میں نہیں ہو تو وہاں نہ جاؤ۔‘‘[1] ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان،جس میں مرض کے متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے،کا مقصد یہ ہے کہ بیماری بالذات اللہ کے ارادہ اور قانون کے بغیر متعدی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے ملک کی ہر چیز اس کے ارادہ سے ہی واقع ہوتی ہے،لہٰذا اس اعتقاد کے ساتھ کہ بیماریوں سے بچانے والا صرف ایک اللہ ہے اور اگر وہ نہ بچائے تو بندہ کسی صورت نہیں بچ سکتا،احتیاط وپرہیز کیا جائے تو اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔خارش والے اونٹ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:’’تو پہلے(اونٹ)کو کس نے بیماری لگائی تھی۔‘‘ [2] اس میں آپ نے واضح کر دیا کہ مؤثر ایک اللہ ہی کی ذات ہے،وہ جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔