جنازے کا بیان

وہ چیزیں جن کے ساتھ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفا طلب فرمائی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بابرکت ہاتھ مریض پر رکھ کر کہتے:((اَللَّھُمَّ!رَبَّ النَّاسِ أَذْھِبِ الْبَأْسَ،وَاشْفِہِ،وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَائُ کَ شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا)) ’’اے اللہ!انسانوں کے پالنے والے،تکلیف دور فرما،شفا دے تو ہی شافی ہے،تیرے سوا کسی کے پاس شفا نہیں ہے۔ایسی شفا دے جو بیماری کو نہ چھوڑے۔‘‘[4] ایک شخص نے آپ کے سامنے درد کی شکایت کی تو آپ فرمایا:’’جسم میں درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ اور تین بار بسم اللہ کہہ اور سات بار یہ دعا پڑھ: ((أَعُوذُ بِاللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّمَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ)) ’’میں اللہ کی بڑائی اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں،اس شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔‘‘[1] صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔جبریل علیہ السلام نے آپ پر یہ دم پڑھا: ((بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَيْ ئٍ یُّؤْذِیکَ،مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ،اَللّٰہُ یَشْفِیکَ،بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ)) ’’میں اللہ کے نام سے تجھے دم کرتا ہوں،ہر اس بیماری سے جو تجھے ایذا دے رہی ہے،ہر نفس کے شر اور حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے،اللہ تجھے شفا دے۔اللہ کے نام سے تجھ پر دم کرتا ہوں۔‘‘[2]