نماز کا بیان
نماز کسوف کا بیان
1 نماز کسوف کا حکم اور اس کا وقت:
مردوں اور عورتوں کے حق میں ’’نماز کسوف‘‘ سنت مؤکدہ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے:
((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَّلَا لِحَیَاتِہِ،فَإِذَا رَأَیْتُمُوھَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاۃِ))
’’سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے،جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو۔‘‘[2]
2 کسوف میں کیا کچھ مستحب ہے؟
سورج بے نور ہونے کی صورت میں کثرت سے ذکر،تکبیریں،استغفار،دعا،صدقہ،غلام آزاد کرنا،نیکی اور صلہ رحمی کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ لَا یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَّلَا لِحَیَاتِہِ،فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذٰلِکَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ وَکَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا))
’’سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے،جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو،اس کی بڑائی بیان کرو،نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔‘‘[3]
3 ’’نماز کسوف‘‘ کا طریقہ:
لوگ مسجد میں جمع ہو جائیں،اذان اور اقامت نہیں ہے۔البتہ یہ آواز دینا مستحب ہے:’اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘ ’’لوگو!نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔‘‘[1]
امام دو رکعت نماز پڑھائے۔ہر ایک رکعت میں دو دو رکوع اور دو دو قیام کرے اور قراء ت،رکوع اور سجود میں طوالت اختیار کرے اور نماز کے دوران جب بے نوری ختم ہو جائے تو عام نفل کی طرح نماز مکمل کر لینا جائز ہے۔
’’نماز کسوف‘‘ میں امام نماز کے بعد خطبہ دے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج بے نور ہو گیا تو آپ مسجد میں آئے اور کھڑے ہو کر تکبیر کہی۔لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنالیں۔آپ نے لمبی قراء ت کی،پھر ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہہ کر لمبا رکوع کیا،پھر سر اٹھایا اور ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ کہا،پھر کھڑے ہو کر لمبی قراء ت کی جو پہلی قراء ت سے کچھ کم تھی،پھر دوسرا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا،پھر ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ،رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘ کہا اور پھر سجدہ کیا اور پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی۔اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے کیے اور آپ کے نماز ختم کرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا،پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا،اللہ کی تعریف کی اور فرمایا:’’سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔جب تم انھیں اس حالت میں دیکھو تو جلدی نماز کے لیے آجاؤ۔‘‘[2]