نماز کا بیان

نماز عیدین کا بیان

٭ نماز عیدین کا حکم اور ان کا وقت: عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں واجب کی طرح سنت مؤکدہ ہیں۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے درج ذیل فرمان میں ان کی ادائیگی کا حکم دیا ہے: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴿١﴾فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ ’’بے شک ہم نے تجھے کوثر دی ہے،پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘[4] اور اس کے ساتھ مومن کی فلاح وکامیابی منسلک کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ﴿١٤﴾وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ﴾ ’’وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیا اور نماز پڑھی۔‘‘[5] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کی ادائیگی پر ہمیشگی کی ہے اور حکم بھی دیا ہے۔حتیٰ کہ بچوں اور عورتوں کو بھی گھروں سے باہر آکر اس میں شریک ہونے کا حکم فرمایا ہے۔[6] یہ اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار اور اس کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے،جس سے ایمان اور تقوٰی کا پتہ چلتا ہے۔اس کی ادائیگی کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے قدر اونچا ہونے سے شروع ہوتا ہے اور زوال تک باقی رہتا ہے۔افضل یہی ہے کہ نمازِ عیدالاضحی کی ادائیگی اول وقت میں ہو تاکہ لوگ جلدی قربانی کر سکیں اور عید الفطر کی نماز میں تاخیر کی جائے تاکہ لوگ صدقۂ فطر کی پہلے ادائیگی کر سکیں [1] اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز فطر اس وقت پڑھاتے تھے جب سورج دو نیزے پر ہوتا اور نماز اضحی اس وقت پڑھاتے،جب سورج ایک نیزے پر ہوتا۔‘‘[2] ٭ نماز عیدین کے آداب: 1: اس کے لیے غسل کرنا چاہیے،خوشبو استعمال کی جائے اور خوبصورت لباس زیب تن کیا جائے،اس لیے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے موقع پر ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم عمدہ لباس پہنیں،عمدہ خوشبو لگائیں اور قیمتی قربانی ذبح کریں۔[3] اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر عید کے موقع پر خوبصورت یمنی چادر پہنتے تھے۔[4] 2: عید الفطر میں کچھ کھا کر جانا اور عید الاضحی میں نماز سے فارغ ہو کر قربانی کا گوشت کھانا چاہیے،اس لیے کہ بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن صبح سویرے کھا لیتے تھے اور قربانی کے دن واپس آکر قربانی کا گوشت کھاتے تھے۔(امام ترمذی نے اسے ذکر کیا اور ابن قطان نے اسے صحیح کہا ہے)[5] 3: عیدین کی راتوں میں کثرت سے تکبیریں کہنی چاہئیں۔عید الاضحی میں ایام تشریق کے آخر تک اور عید الفطر میں امام کے نماز کے لیے نکلنے تک تکبیرات کہتے رہنا چاہیے۔[6] تکبیرات عید کے الفاظ:((اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَاللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُ)) عید گاہ کی طرف جاتے وقت اور ’’ایام تشریق‘،میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کے ذکر کی تاکید آئی ہے۔[7] اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ﴾’’گنتی(قیام منٰی)کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔‘‘[8] اور ارشاد ہے:﴿وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ﴾’’اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔‘‘[9] اور فرمان الٰہی ہے:﴿لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ﴾’’اور تاکہ تم اس بات کے بدلے کہ اللہ نے تمھیں ہدایت دی ہے،اس کی بڑائی بیان کرو۔‘‘[1] 4: ایک راستہ سے عید گاہ کی طرف جانا اور دوسرے راستہ سے واپس آنا بھی آداب عید میں سے ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل یہی تھا۔جابر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن راستہ بدل لیتے تھے۔[2] 5: عید کی نماز کھلے میدان میں پڑھنی چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کھلے میدان میں نماز عید پڑھتے تھے،[3]جیسا کہ صحیح احادیث میں مروی ہے۔ 6: عید کی ایک دوسرے کو مبارک دینی چاہیے،وہ اس طرح کہ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کہے: ’تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکَ‘ ’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری اور تمھاری(عبادت)قبول کرے۔‘‘[4] اس لیے بھی کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ عید کے دن جب وہ ایک دوسرے کو ملتے تو مذکورہ الفاظ کہتے۔[5] 7: عید الاضحی کے دن کھانے پینے میں وسعت کرنا اور مباح کھیل کود میں کوئی حرج نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أَیَّامُ التَّشْرِیقِ أَیَّامُ أَکْلٍ وَّشُرْبٍ وَّذِکْرِ اللّٰہِ))’’ایام تشریق(13,12,11 ذوالحجۃ)کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔‘‘[6] نیز انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو وہاں کے لوگ دو دن کھیل کود میں مشغول رہتے تھے تو آپ نے فرمایا: ((قَدْ أَبْدَلَکُمُ اللّٰہُ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْھُمَا:یَوْمُ الْفِطْرِ وَیَوْمُ الْأَضْحٰی))’’اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے بدلے میں ان سے بہتر دن دیے ہیں(یعنی)فطر اور اضحی کا دن۔‘‘[7] نیز عید کے دن دو بچیاں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شعر گا رہی تھیں،ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں ڈانٹا تو آپ نے فرمایا: ((یَا أَبَا بَکْرٍ!إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیدًا،وَھٰذَا عِیدُنَا))’’اے ابوبکر!(رضی اللہ عنہ)ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔‘‘[8] ٭ نماز عیدین کا طریقہ: لوگ تکبیریں کہتے ہوئے عید گاہ کی طرف جائیں۔جب سورج چند میٹر اونچا ہو جائے تو امام اذان وتکبیر کے بغیر دو رکعت نماز پڑھائے،پہلی رکعت میں سات بار اللہ اکبر کہے اور لوگ بھی اس کے ساتھ تکبیر کہتے رہیں،پھر سورئہ فاتحہ اور سورۂ اعلی اونچی آواز سے پڑھے اور دوسری رکعت میں تکبیر قیام سمیت چھ تکبیریں کہے اور سورئہ فاتحہ کے بعد سورئہ غاشیہ یا والشمس وضحاھا پڑھے۔پھر سلام کہنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے۔افتتاح،اللہ کی حمد وثنا سے کرے۔اگر عید الفطر ہے تو صدقہ کی ترغیب دلائے اور احکامِ شریعت سے آگاہ کرے۔اگر عید الاضحی ہے تو قربانی کرنے کی ترغیب دلائے اور قربانی کے مسائل لوگوں کو بیان کرے،فارغ ہو جائے تو لوگ بھی اس کے ساتھ واپس ہو جائیں،اس لیے کہ عیدین کی نمازوں سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز مسنون نہیں ہے۔الا یہ کہ نماز عید اگر کسی سے فوت ہو جائے تو وہ چار رکعت اپنے طور پر پڑھ سکتا ہے۔اس لیے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو شخص نماز عید میں شریک نہ ہو سکے وہ چار رکعات پڑھے اور جو امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے،چاہے تشہد میں ہی ہو تو وہ امام کے سلام کے بعد اٹھے اور دو رکعت پڑھ لے۔‘‘[1]